اشاعت کے باوقار 30 سال

پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) کی مالی حالت انتہائی مخدوش ہو گئی

پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) کی مالی حالت انتہائی مخدوش ہو گئی

کراچی: پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) کی مالی حالت انتہائی مخدوش ہو گئی، مختلف اداروں پر پی ایس او کے مجموعی واجبات 285 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ پی ایس او ذرائع کے مطابق مختلف اداروں پر پی ایس او کے مجموعی واجبات 285 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، جس میں پاور سیکٹر سب سے زیادہ 176 ارب 10 کروڑ روپے کا نادہندہ ہے، واپڈا نے پی ایس او کے 116 ارب 80 کروڑ، حبکو نے 42 ارب 40 کروڑ اور کیپکو نے 16 ارب 90 کروڑ روپے ادا کرنے ہیں۔ اسی طرح سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے 14 ارب اور پی آئی اے نے پی ایس او کے 13 ارب 30 کروڑ ادا کرنے ہیں۔ پی ایس او نے پی آئی اے کی جانب سے بقایا جات کی عدم ادائیگی کے معاملے پر سیکرٹری ایوی ایشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 15 ماہ میں پی ایس او کے صرف پاور سیکٹر پر واجبات میں 45 ارب 10 کروڑ روپے اور مختلف اداروں پر مجموعی واجبات میں 61 ارب 10 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ مختلف اداروں سے بقایا جات کی عدم وصولی کے باعث پی ایس او کا بینکوں سے قرضوں پر انحصار بڑھ گیا ہے اور ادارہ بینکوں کا مجموعی طور پر 127 ارب 40 کروڑ روپے کا مقروض ہو گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ 6 ماہ کے دوران پی ایس او کو 37 ارب روپے ادا کیے گئے جس میں 20 ارب روپے فروری اور 17 ارب روپے جون 2017 میں ادا کیے گئے۔

loading...