اشاعت کے باوقار 30 سال

قومی ہاکی کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے

قومی ہاکی کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے

کراچی: پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی کے رکن اولمپئن فرحت خان نے کہا ہے کہ پی ایچ ایف کلی طور پر خود مختار نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اولمپئن فرحت خان نے کہا کہ پی ایچ ایف اپنے طور پر ہاکی کی بقا کے لیے اقدمات کر رہی ہے لیکن ذمہ داران مکمل طور پر اختیارات سے محروم ہیں، لندن میں منعقدہ ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ رائونڈ مقابلوں میں بحثیت مجموعی ناقص کارکردگی کی ذمہ دار قومی سلیکشن کمیٹی نہیں بلکہ ٹور مینجمنٹ ہے۔
فرحت خان نے کہا کہ خواجہ جنید اور حنیف خان اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام رہے لیکن اس کے باجود وہ مزید وقت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں، یورپی کھیلوں میں ایک میچ میں ناقص کارکردگی پر کوچ کو ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا جاتا ہے، خواجہ جنید جیسے آفیشلز اگر قومی ٹیم سے چمٹے رہے تو وہ پاکستان ہاکی کو تباہ کردیں گے، ایونٹ سے قبل قومی تربیتی کیمپ کے لیے سلیکشن کمیٹی کے علم میں لائے بغیر مرضی کے کھلاڑیوں کو بلایا گیا جب کہ خود کوچ کیمپ آنے سے گریزاں رہے۔ اولیمپئن نے کہا کہ قومی سلیکٹرز تنخواہ پر کام نہیں کر رہے، ان کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کر لیے جاتے ہیں، سلیکٹرز کو ذمہ داریوں سے الگ کرنا درست اقدام نہ ہو گا، عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کرنا سلیکشن کمیٹی کی کامیابی ہے، جب ہم سے جواب طلب کیا جائے گا تو حقائق سامنے لائیں گے، قومی سلیکٹر نے مزید کہا کہ ایونٹ کے میچز کے دوران مسلسل کھلاڑیوں کو تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا جس سے اعتماد مجروع ہونے سے ان کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
ایک سوال پر اولمپئن فرحت خان نے کہا کہ ایشائی کپ اور عالمی کپ جیسے بڑے ایونٹس میں اچھے رزلٹ کے لیے اخلاص کے ساتھ راست اقدامات کرنا پڑیں گے، ہمارے کھلاڑیوں میں اہلیت موجود ہے، ملک گیر سطح پر اوپن ٹرائلز کے بعد میرٹ پر کھلاڑیوں کا انتخاب کر کے ان کو بھر پور ٹریننگ دی جائے، ان میں مقابلے کی اسپرٹ پیدا کی جائے جب کہ غیر ملکی ٹورز ان کھلاڑیوں کے تجربہ میں اضافے کے ساتھ کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون و مدد گار ثابت ہوں گے، سینئرز کو نظر انداز کرنے کی بجائے لیگ کھیلنے کے لیے یورپ چلے جانے والے کھلاڑیوں کی خدمات سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔