اشاعت کے باوقار 30 سال

جے آئی ٹی رپورٹ میں نواز شریف کے ذاتی اثاثوں کے متعلق انکشاف

جے آئی ٹی رپورٹ میں نواز شریف کے ذاتی اثاثوں کے متعلق انکشاف

اسلام آباد: اربوں روپے کرپشن کے الزام میں تحقیقات کا سامنا کرنے والے وزیر اعظم نوازشریف نے اپنے پہلے دور حکومت میں 98 قومی ادارے کوڑیوں کے بھاؤ اپنے کاروباری دوستوں کو فروخت کئے تھے اور اداروں کی فروخت میں مبینہ اربوں روپے کی کمیشن وصول کر کے اپنے اثاثے بڑھائے تھے، حکومت سنبھالنے سے قبل شریف خاندان کے اثاثوں کی مالیت صرف 25 کروڑ روپے تھی جبکہ 1993ء میں جب کرپشن پر ان کی حکومت برطرف کی گئی تو شریف خاندان کے اثاثوں کی مالیت 235 کروڑ روپے سے زائد تھی ان دو سالوں میں نواز شریف نے 98 قومی ادارے 60 ارب روپے میں فروخت کئے تھے حالانکہ ان قومی اداروں کی اصل مالیت کھربوں روپے تھے۔جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شریف خاندان کے اثاثے 1992ء میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جبکہ ان کی ذرائع آمدن وہی تھے جو ان کے والد کے زیر انتظام تھے۔ جے آئی ٹی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ شریف خاندان کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے بارے ریفرنس نیب کو ارسال کیا جائے۔ نواز شریف نے اہم قومی ادارے 1992ء میں میاں منشاء، طارق شہگل، ٹھیکیدار ایم اشرف بلوچ اینڈ برادرز اور حاجی سیف اللہ جیسے کاروباری دوستوں کو اونے پونے داموں فروخت کئے تھے۔ الغازی ٹریکٹر 106 ملین میں فروخت کیا تھابھاری کمیشن لیا گیا۔ نیشنل موٹرز کو صرف 15 کروڑ میں فروخت کیا گیا۔ ملت ٹریکٹر 31 کروڑ میں فروخت کیا گیا۔بلوچستان ویلز کو 27 کروڑ میں فروخت کر کے کمیشن لیا گیا۔ پاک سوزوکی کو 172 ملین میں فروخت کیا گیا۔ نیا دور موٹرز 22 ملین بولان کاسٹنگ69 ملین میں فروخت کیا گیا۔ مبیل لیف سیمنٹ 486 ملین میں میاں منشاء کو فروخت کیا گیا۔ وائٹ سیمنٹ پاک سیمنٹ 189 ملین میں کاروباری دوست میاں جہانگیر کو فروخت کی گئی۔ ڈی جی خان سیمنٹ طارق سہگل کو صرف 2 ارب روپے میں فروخت کی گئی۔ غریبوال سیمنٹ 84 کروڑ میں سیاستدان ساتھی حاجی سیف اللہ کو دیا گیا۔ زیل پاک سیمنٹ 24 کروڑ روپے میں کنڈیکٹر سردار اشرف بلوچ کو دیا گیا، ڈنڈوف ایڈیشنل سیمنٹ 11 کروڑ میں ای ایم جی گروپ کو دیاگیا۔ ایسوسی ایٹ سیمنٹ 26 کروڑ ٹھٹھہ سیمنٹ العباس گروپ کو 80 کروڑ میں دیا گیا، نیشنل فائبر 76 کروڑ میں شان گروپ کو فروخت ہوا۔ پاک پی وی سی 64 ملین میں ریاض ریشم کو فروخت کیا سندھ الکالس جبکہ اینٹی بائیوٹک 24 ملین میں ٹیکو کمپنی کو راوی انجینئرنگ 5 ملین میں پیٹرسن کمپنی کو دیا گیا۔ نوشہرہ سیمنٹ 21 ملین میں محبوب منجی کو فروخت ہوئی۔ پاٹینر سٹیل کمپنی ایم عثمان کمپنی کو 4 ملین میٹرو پولیٹین سٹیل 67 ملین میں کاروباری دوست اشرف بلوچ کو فروخت ہوئی۔ پاکستان سوئچ گیئر 9 ملین میں ای ایم جی کوالٹی سٹیل 13 ملین میں مارکیٹنگ انجینئرنگ پاک چین فرٹیلائزر 44 کروڑ میں شان گروپ کو فروخت ہوئی، نواز شریف دور میں 15 گھی ملیں کاروباری دوستوں کو فروخت کیں۔ فضل گھی 21 ملین میں محمد شاہ کو، ایسوسی ایٹ انڈسٹری محبوب ابورب فصل رحمان مل 66 ملین روز گھی کو، کاکا خیل انڈسٹری 59 ملین میں محبوب کو، یونائیٹڈ انڈسٹریز 16 ملین اکبر منگو، ہری پور ویجیٹیبل 30 ملین میں ملک نصیر کو فروخت ہوئی۔ بار گھی مل، حیدری انڈسٹری، چلتن گھی مل، وزیر علی انڈسٹری، آصف انڈسٹری، خیبر ویجیٹیبل، سراج ویجیٹیبل، کریسنٹ ویجیٹیبل، بنگالی ویجیٹیبل، آئل انڈسٹری من پسند کاروباری دوستوں کو فروخت کیں۔ رائس ملیں شیخوپورہ مل، جیکل کے بادمل، سرانوالی مل، حافظ آباد مل، امین آباد مل، دھونکل مل، مبارکپور مل، شکارپور رائس مل 24 کروڑ میں دوستوں کو فروخت ہوئیں۔ گلبرگ لاہور روئی پلانٹ 9 ملین میں پیکجز لمیٹڈ کو فروخت ہوا۔ لیتا دو روئی پلانٹ، ہیڈ آفس لاہور کی اربوں مالیت کی جائیداد حاجرہ ٹیکسٹائل مل کو دے دی گئی۔ حیدر آباد، فیصل آباد، بہاولپور، ملتان، کوئٹہ، اسلام آباد، کراچی، عقل پور لاہور میں روئی پلانٹ 94 ملین میں فروخت ہوئے۔ قائد آباد روٹی مل 86 ملین میں جہانگیر اعوان کو فروخت ہوئی۔ نواز شریف نے دو حکومتوں میں 98 قومی ادارے 61 ارب میں فروخت کئے اور بھاری کمیشن وصول کیا۔