اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

فرانس میں شہنشاہیت کا خاتمہ

سینٹرل کنٹریکٹ میں نظر انداز کرکٹرز مایوسی کا شکار

سینٹرل کنٹریکٹ میں نظر انداز کرکٹرز مایوسی کا شکار

لاہور: سینٹرل کنٹریکٹ میں نظر انداز کرکٹرز مایوسی کا شکار ہیں، ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے ڈھیر لگانے والوں کو تعریفوں کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ عمر اکمل نے تو ہائی پرفارمنس کیمپ میں فٹنس بہتر بنانے کے بجائے انگلینڈ روانہ ہو کر سلیکٹرز کی ناراضی مول لی لیکن فواد عالم، خرم منظور، عمران خان، سہیل تنویر، عدنان اکمل، صاحبزادہ فرحان، تابش خان اور صدف حسین کو بھی وجہ بتائے بغیر سینٹرل کنٹریکٹ سے نظر انداز کر دیا گیا۔
چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کو گزشتہ سیزن میں 3 فرسٹ کلاس سنچریوں کی بنا پر ایک لاکھ 69 ہزار روپے ماہانہ وصول کرنے کا مستحق سمجھا گیا، مگر کیریئر میں ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے ڈھیر لگانے والے فواد عالم اور خرم منظور کو کسی کیٹیگری میں نہیں رکھا گیا، دونوں 20 سے زائد سنچریاں بنا چکے ہیں۔
ادھر صاحبزادہ فرحان نے پاکستان کپ کے 5 میچز میں 331 رنز بنائے تو چیئرمین پی سی بی شہریار خان اور چیف سلیکٹر انضمام الحق نے تعریفوں کے پل باندھ دیے، مگر کنٹریکٹ کی باری آئی تو نظر انداز کر دیا گیا، بلال آصف نے پاکستان کپ میں 4 میچز میں 5 وکٹیں حاصل کیں، ماضی میں ان کا بولنگ ایکشن شکوک کی زد میں آ چکا، مستقبل میں بھی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، اس کے باوجود ’’ڈی‘‘ کیٹیگری میں شامل کیا گیا، کبھی قومی ٹیم میں مستقل جگہ نہ بنانے والے عمر امین بورڈ کی ایک بااثر شخصیت کی سفارش پر بار بار کنٹریکٹ پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب دورہ انگلینڈ کے لیے بڑے مان کے ساتھ منتخب کیے جانے والے افتخار احمد نظروں سے اتر گئے،چند ماہ قبل ان فٹ قرار دیے جانے والے راحت علی کو شامل رکھا گیا لیکن ناسازگار وکٹوں پر عمدہ کارکردگی دکھانے والے عمران خان فارغ کر دیے گئے۔
دنیا بھر کی ٹوئنٹی 20 لیگز میں مہنگے کرکٹر کے طور پر منتخب کیے جانے والے سہیل تنویر کا المیہ یہ ہے کہ انھیں اکثر سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست سے باہر کر کے ضرورت پڑنے پر قومی ٹیم میں شامل کر لیا جاتا ہے، اس بار بھی وہ منہ دیکھتے رہ گئے، ان فیصلوں پر نظر انداز کرکٹرز سخت مایوس دکھائی دیتے ہیں۔