اشاعت کے باوقار 30 سال

بالوں کو سیاہ کرنے والا ’’کالا پتھر‘‘ خود کشی کا آسان ذریعہ

بالوں کو سیاہ کرنے والا  ’’کالا پتھر‘‘ خود کشی کا آسان ذریعہ

ملتان: ملتان کے شہریوں کے لئے ’’ کالا پتھر ‘‘ بال رنگنے کی بجائے خود کشی کرنے کا آسان اور سستا ذریعہ بن چکا جب کہ یہ زہر بازار میں انتہائی کم قیمت پر سرعام دستیاب ہے، اس کے خطرناک زہریلے اثرات چند منٹوں میں انسان کو موت کے منہ میں پہنچا دیتے ہیں، ملتان ریجن میں مختلف واقعات میں ’’ کالے پتھر ‘‘ کے استعمال سے 135 افراد جان کی بازی ہار گئے ،یہ واقعات رواں سال کے پہلے تین ماہ میں پیش آئے۔ انگریزی اخبار کے مطابق ہفتہ کے دن ملتان ریجن کے مختلف علاقوں میں میں کالے پتھر کے استعمال سے 5 افراد ہلاک ہو گئے ،جن میں 18 سالہ حمیرا، 19 سالہ فرید، 18 سالہ کاشف، 19 سالہ رحمان اور 27 سالہ سائرہ شامل ہیں، ابتدائی طور پر یہ لوگ ہسپتال لائے گے مگر جانبر نہ ہو سکے۔واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ’’کالا پتھر‘‘ بالوں کو لمبا کرنے، خشکی، مہندی اور ہیئر کلرز میں استعمال ہوتا ہے لیکن زندگی سے مایوس افراد نے اسے موت کا آسان ذریعہ بنا لیا ہے ،اس کو پانی میں ملا کر پینے سے چند منٹوں میں ہی گردن کی رگیں پھولنا شروع ہو جاتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے انسان موت کی وادی میں چلا جاتا ہے ، جیتے جاگتے شخص کو چند منٹوں میں موت کی وادی میں لے جانے والا یہ زہر حکیموں ، پنساریوں اور گلی محلوں میں قائم جنرل سٹورز پر کھلے عام دستیاب ہے ۔کچھ عرصہ قبل آر پی او ملتان نے ضلعی انتظامیہ کو اس جان لیوا پتھر کی خریداری پر پابندی لگانے کے احکامات جاری کیے تھے مگر تا حال اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔

loading...