اشاعت کے باوقار 30 سال

بھارت پورے چین کو نشانہ بنانے کے لئے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے

بھارت پورے چین کو نشانہ بنانے کے لئے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے

واشنگٹن: امریکی جوہری ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت اپنے ایٹمی اثاثوں کی تجدید کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور اب وہ ایسے میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہے جنہیں چین کے کسی بھی حصے پر داغا جا سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی ماہرین ہینز ایم کرسٹینسن اور روبرٹ نورِس نے ڈیجیٹل جریدے ’’ آفٹر مڈنائٹ‘‘ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ اب بھارت کی توجہ کا مرکز تبدیل ہو چکا ہے اور وہ پاکستان کے بجائے چین کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی جوہری حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے۔ ان دو مصنفوں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بھارت ایسے میزائلوں کی تیاری میں بھی مصروف ہے جن کی مدد سے وہ ملک کے جنوبی حصے میں واقع فوجی اڈوں سے پورے چین کو نشانہ بنا سکے۔ شائع ہونے والے مضمون کا عنوان ’’انڈین نیوکلیئر فورسز 2017 ‘‘ ہے جس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ عام اندازے کے مطابق بھارت نے اتنا پلوٹونیم تیار کر رکھا ہے جو 150 سے 200 جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کافی ہے البتہ اب تک اس نے 120 سے 130 میزائل تیار کیے ہیں۔ امریکی ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکمت عملی میں ہونے والی اس تبدیلی سے آئندہ 10 برس کے دوران بھارت کی جوہری استعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور پاکستان کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے کردار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت متعدد نئے نیوکلیئر ویپن (ہتھیار) سسٹمز تیار کر رہا ہے اور اس وقت بھارت کے پاس 7 ایسے سسٹمز موجود ہیں جہاں سے ایٹمی ہتھیاروں کو آپریٹ کیا جا سکتا ہے، ان میں دو طیارے، چار زمین سے مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ایک سمندر سے مار کرنے والا بیلسٹک میزائل شامل ہے جبکہ مزید چار سسٹمز تکمیل کے مراحل میں ہیں۔