اشاعت کے باوقار 30 سال

ناقص آلات جراحی، 11 کھرب ڈالر کا نقصان ہو گیا

ناقص آلات جراحی، 11 کھرب ڈالر کا نقصان ہو گیا

اسلام آباد: گزشتہ سال اپنے چوتھے بچے کو جنم دینے کے بعد اسسٹنٹ نرس ایرولا ناقص آلات سرجری کی وجہ سے ایبولا وائرس کی لپیٹ میں آ گئی۔ پھر چند ہی دنوں میں اس نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ اس کے اینٹی باڈیز ایبولا کا مقابلہ نہ کر سکے۔ مگر وہ اکیلی اس بیماری کا شکار نہیں ہوئی، 2010 میں اس نے ہیٹی پر حملہ کیا اور بے شمار افراد کو ہلا ک کر ڈالا تھا۔ آلات سرجری دنیا کے کئی حصوں میں معیاری نہیں، جن سے بیماریاں ایک مریض سے دوسرے مریض میں منتقل ہو رہی ہیں۔ "لانسیٹ کمیشن آن گلوبل سرجری کے مطابق 5 ارب افراد کو محفوظ یعنی صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے، پانچ ارب بیماروں میں سے کم از کم 30 فیصد مریضوں کو سرجری کی ضرورت پڑتی ہے وہ اس کے بغیر ٹھیک نہیں ہو سکتے مگر انہیں محفوظ سرجری کی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ آلات سرجری یا اینستھزیا میں خرابی پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے۔ لاکھوں افراد دوران سرجری پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث مر جاتے ہیں لیکن ذرا سی توجہ سے ان کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں، مگر ڈاکٹر آلات کی عدم فراہمی کے باعث ایسا نہیں کر پاتے۔ سرجری مہنگا عمل اور پیچیدہ عمل ہے۔ اسی لئے کچھ لوگ سرجری سے گھبراتے ہیں۔ سرجری سے سرطان کے 80 فیصد مریضوں کو فائدہ پہنچا لیکن اس کے باوجود کم ترقی یافتہ ممالک میں آلات سرجری کے فقدان کے باعث 1 کروڑ 70 لاکھ مریض ہلاک ہو رہے ہیں۔ یہ نقصان عالمی جی ڈی پی کے 1.25 فیصد یعنی 11.5 کھرب ڈالر کے برابر ہے۔ کم آمدنی والے اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں اس کا نقصان 12.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا جبکہ ان زندگیوں اور اس مالی نقصان کو یہ ممالک صرف 350 ارب ڈالر خرچ کر کے بچا سکتے ہیں۔ یہی نہیں، ملیریا، ٹی بی اور ہیضہ جیسے امراض پر انسان نے بڑی تیزی قابو پایا۔ یہ الگ بات ہے ان دنوں یمن میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑی ہے جو اب تک تین لاکھ افراد کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ ان کے علاج کے لئے بھی بہتر آلات کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کئی ممالک میں ڈاکٹروں کے استعمال کے عام آلات بھی ٹھیک نہیں۔ عالمی بینک اور دوسرے ادارے تھوڑی بہت مدد کر رہے ہیں لیکن یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ آرمی ورلڈ اسمبلی نے قرارداد نمبر 68.5 اسی سلسلے میں منظور کی تھی۔ یہ قرارداد میعاری آلات سرجری کے استعمال پر زور دیتی ہے لیکن اب دنیا یہ قرارداد بھول چکی ہے۔