اشاعت کے باوقار 30 سال

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان

عالمی مارکیٹ میں  تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان

ریاض: سعودی عرب کی جانب سے تیل کی پیداوار میں ایک بار پھر اضافے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہونے لگی ہے اور گزشتہ روز ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 45 ڈالر فی بیرل جب کہ نیویارک آئل فیوچرز میں تبدیلی کے بعد خام تیل کی قیمت 44 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ سعودی عرب نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کو بتا دیا ہے کہ اس نے تیل کی یومیہ پیداوار میں ایک لاکھ 90 ہزار بیرل کا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔
عریبین بزنس کی رپورٹ کے مطابق اس خبر کے بعد کہ سعودی عرب نے طے شدہ پیداوار میں گزشتہ ماہ اضافہ کر دیا، نیویارک آئل فیوچرز میں تبدیلی ہوئی اور تیل کی قیمت 44 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سعودی پیداوار کی حد 10.058 ملین بیرل مقرر کی گئی تھی لیکن جون کے مہینے میں پیداوار بڑھا کر 10.07 ملین بیرل کر دی گئی۔
دوسری جانب ’بی این پی پریبس ایس اے لندن‘ کے کموڈٹی مارکیٹس سٹریٹجی کے سربراہ ہیری شلنگ گوارن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی طرف سے تیل کی پیداوار میں اضافہ غالباً ایک نارمل موسمیاتی ایڈجسٹمنٹ ہے۔ مئی کے مہینے سے تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 50 ڈالر فی بیرل سے نیچے کی جانب مائل رہی ہے۔
امریکی خام تیل کی پیداوار 5 سالہ اوسط سے 100 ملین بیرل اوپر رہی ہے جب کہ اپریل 2015ء کے بعد سے امریکا میں تیل کے کنوﺅں کی تعداد بھی بلند ترین سطح پر ہے۔ نائیجیریا اور لیبیا کی جانب سے اضافہ بھی عالمی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے طے شدہ ہدف سے زیادہ پیداوار کو مثبت علامت کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، اگرچہ اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی جا رہی ہے کہ سعودی عرب عموماً موسم گرما میں پیداوار میں اضافہ کرتا ہے۔ اس صورت حال میں تیل کی قیمت میں مزید کمی متوقع ہے۔

loading...