اشاعت کے باوقار 30 سال

چینی تعاون سے کراچی سے پشاور تک ریلوے ٹریک ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن

چینی تعاون سے کراچی سے پشاور تک ریلوے ٹریک ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن

لاہور: ریلوے حکام کی چینی ماہرین کے ساتھ کراچی سے پشاور تک ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کی تفصیلات طے پا گئیں ،جس کے تحت پورے ٹریک کو ڈبل کر دیا جائے گا، مسافر بردار ٹرینوں کی سپیڈ کم از کم 110 کلو میٹر فی گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ 160 کلو میٹر فی گھنٹہ تک بڑھا دی جائے گی جب کہ مال بردار گاڑیوں کی رفتار 120 کلو میٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔ یہ تفصیلات ریلو ے ہیڈ کوارٹرز آفس لاہور میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں طے کی گئیں جب کہ چین کے نیشل ریلوے ایڈمنسٹریشن کے وفد نے زینگ ہونگ بو کی سربراہی میں پاکستان ریلویز کے حکام سے ملاقات کی۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز محمد جاوید انور نے کہا کہ ایم ایل ون پر جہاں اس وقت 32 ٹرینیں چل رہی ہیں ان کی تعداد اور گنجائش 173 تک بڑھ جائے گی۔ ٹریک کی اپ گریڈیشن کرتے ہوئے 2655 کلو میٹر طویل ٹریک کو اپ گریڈ، 364 کلو میٹر ٹریک کو اوور ہال اور 814 کلو میٹر طویل ٹریک کو مکمل نیا تیار کیا جائے گا۔ اپ گریڈیشن کو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا اور 2700 پل، 550 خم اور 11 ٹنل بھی اپ گریڈ ہوں گے۔ اپ گریڈیشن کے اس منصوبے میں کمپیوٹرائزڈ انٹرلاکنگ سسٹم، آٹو بلاک سگنلنگ، آٹومیٹک ٹرین پروٹیکشن، ایڈوانس روڈ وارننگ اور سنٹرلائزڈ ٹریفک کنٹرول کے جدید نظام بھی شامل ہیں۔ سی پیک کے تحت چینی ماہرین کراچی سے حیدرآباد تک موجودہ ٹریک کی اوورہالنگ کرتے ہوئے اس سیکشن میں سپیڈ160 کلو میٹر فی گھنٹہ کرنے کے علاوہ ایک متبادل ٹریک بھی بچھائیں گے۔ اپ گریڈیشن کے فیز ون میں ہی ملتان سے لاہور، پشاور سے راولپنڈی، کالووال سے پنڈورا، نواب شاہ سے روہڑی اور ریلوے والٹن اکیڈیمی کی بھی اپ گریڈ یشن ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ سی پیک کے تحت پاکستان ریلویز میں انقلاب کی بنیاد رکھی جا رہی ہے اپنی آنے والے نسلوں کو ایک دم توڑتی نہیں بلکہ پاکستان کی ترقی اور خوش حالی کے لیے تیزی سے منزل کی طرف دوڑتی ہوئی ریلوے دے کر جائیں گے۔

loading...