اشاعت کے باوقار 30 سال

لڑکی نے گن پوائنٹ پر لڑکا اغواء کرکے شادی کرلی

 لڑکی نے گن پوائنٹ پر لڑکا اغواء کرکے شادی کرلی

ہماچل پردیش: لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد اس سے شادی کرنے کی خبریں تو آپ نے بہت سنی ہوں گی اور اس حوالے سے فلمیں بھی دیکھی ہوں گی لیکن بھارت میں ریوالور رانی کے نام سے مشہور لڑکی نے اپنی محبت کو پانے کے لئے لڑکے کو گن پوائنٹ پر منڈپ سے اغوا کر کے اس کے ساتھ شادی رچا لی۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ورشا ساہو نامی لڑکی اس وقت خبروں کی زینت بنی تھی جب 15 مئی کو اس نے ایک لڑکے اشوک یادیو کو شادی کے منڈپ سے گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا تھا اور تب سے لوگ اسے ریوالور رانی کے نام سے پکارنے لگے تھے۔ اب ورشا نے اشوک سے شادی کر لی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ دن دیکھنے کے لیے اسے بہت پاپڑ بیلنے پڑے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اشوک اور ورشا گزشتہ 8 برس سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور شادی کرنا چاہتے تھے لیکن اشوک کے گھر والوں نے اس کی شادی کہیں اور طے کر دی تھی اور اشوک نے بھی اپنے گھر والوں کی مرضی کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے تھے؛ تاہم ورشا کو یہ بات بالکل بھی گوارا نہ تھی کہ جس سے وہ محبت کرتی ہے اس سے کوئی اور لڑکی شادی کر لے لہذا وہ عین شادی والے دن منڈپ پہنچ گئی اور اشوک کو سب کے سامنے گن پوائنٹ پر اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔ اشوک اور ورشا کے بھاگنے کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے اشوک پر دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرایا جس پر پولیس نے اسے حراست میں بھی لے لیا تھا۔ دوسری جانب اشوک کے گھر والوں نے ورشا پر تو کوئی مقدمہ نہیں کیا البتہ انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اشوک کو رہا کرانے کے لیے ورشا نے ہی ضمانتی مچلکے جمع کرائے، جس کے بعد اسے 7 جولائی کو جیل سے رہائی اور پھر دونوں نے جلد از جلد شادی کا فیصلہ کیا۔ شادی کی تقریب بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے ایک گاؤں میں ہوئی اور اس کا سارا خرچہ ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے مقامی یونٹ نے برداشت کیا۔ شیو سینا کے ریاستی صدر رتن برہمچاری نے شادی میں شرکت بھی کی اور اس موقع پر انہوں نے ایک این جی او بھی قائم کرنے کا اعلان کیا جس کا نام ریوالور رانی رکھا گیا اور ورشا کو ہی اس کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ یہ این جی او اب ان لڑکیوں کی مدد کرے گی جنہیں ان کے بوائے فرینڈز نے دھوکا دیا ہو گا جبکہ پسند کی شادی کرنے والے لڑکے لڑکیوں کی بھی مدد کی جائے گی۔