اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

فرانس میں شہنشاہیت کا خاتمہ

پاکستانی اپنے رہنماؤں سے ان کے بدلتے بیانات پر سوال کریں

پاکستانی اپنے رہنماؤں سے ان کے بدلتے بیانات پر سوال کریں

واشنگٹن: امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے حال ہی میں شائع ہونے والی سنسنی خیز آپ بیتی 'دا کنٹریکٹر' کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان میں بیشتر لوگ ان کو جھوٹا گردانتے ہیں لیکن درحقیقت ان کے اپنے رہنماؤں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے لیکن ان سے کوئی سوال نہیں کیا جاتا۔ ریمنڈ ڈیوس بی بی سی کے ایک پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے جہاں انھوں نے اپنی آپ بیتی کے حوالے سے کیے گئے سوالات کے جواب دئیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ واقعہ پاکستان کی سرزمین پر پیش آیا اور وہاں کے لوگ اس معاملے پر جذباتی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ایک بہت بڑی تعداد مجھے جھوٹا سمجھتی ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ میری کتاب ہے اور میری کہانی ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس پوری سلسلے کو میری نظر سے بھی دیکھنے کی کوشش کریں اور ملک کے رہنماؤں سے ان کے بدلتے ہوئی بیانات کے بارے میں سوالات کریں۔' اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے ریمنڈ ڈیوس نے کہا کہ کتاب میں جن جن لوگوں کا انھوں نے نام لکھا ہے وہ اب منظر عام پر آ کر انھیں جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ 'مجھے بڑا دکھ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھوٹا قرار دینے کے لیے، اور میرا نام بدنام کرنے کے لیے اس حد تک جا سکتے ہیں۔' ریمنڈ ڈیوس نے کہا کہ پاکستان میں یہ بڑا آسان ہے کہ اگر کسی معاملے میں خود سے الزام ہٹانا ہو تو انڈیا پر تہمت لگا دو اور اس سے عام عوام طیش میں آ جاتی ہے اور جس کی غلطی ہوتی ہے اس سے کوئی سوال نہیں ہوتا۔ انٹرویو میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ریمنڈ ڈیوس نے کہا ہے انھیں ابھی تک اس بات کا علم نہیں ہے کہ جن دو افراد کو انھوں نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا وہ دونوں کون تھے۔' پاکستان کے میڈیا میں خبر چل رہی تھی کہ وہ دونوں پاکستان کے خفیہ ادارے کے بھیجے ہوئے کارندے تھے۔ عدالت میں جمع کی گئی دستاویزات کے مطابق ان دونوں کو چوری کے الزامات میں 67 بار حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ خبریں تھیں کہ لشکر طیبہ نے بلیک واٹر کے اہلکاروں کو قتل یا اغوا کرنے کے لیے انعام رکھا ہوا تھا اور ہو سکتا ہے کہ ان دونوں نے اس انعام کے لالچ میں مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔' ریمنڈ ڈیوس نے کہا کہ امریکہ واپس جانے کے بعد ان سے حکومتی اداروں نے اس واقعے کے بارے میں تفتیش بھی کی تھی۔