اشاعت کے باوقار 30 سال

فرینکفرٹ; تارکین وطن کی تعداد مقامی باشندوں کی تعداد سے زیادہ

فرینکفرٹ;  تارکین وطن کی تعداد مقامی باشندوں کی تعداد سے زیادہ

برلن : گزشتہ چند سالوں کے دوران تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد افریقہ اور مشرق وسطی سے یورپی ممالک جا پہنچی ہے، جس کے نتیجے میں بالآخر یورپی ممالک میں وہ تبدیلی نظر آنے لگی ہے جس سے اہل مغرب کو سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق جرمنی میں بھی تارکین وطن کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد آبادی کا تناسب حیرتناک حد تک تبدیل ہو گیا ہے۔ فرینکفرٹ شہر سے حاصل کئے گئے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس شہر میں جرمنی کے مقامی باشندوں کی تعداد کم رہ گئی ہے جب کہ تارکین وطن کی تعداد ان سے زیادہ ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس شہر میں رہنے والوں میں سے 51.2 فی صد تارکین وطن یا ان کے بچے ہیں۔ فرینکفرٹ میں آباد تارکین وطن میں سے زیادہ تعداد ترکی سے آئی ہے۔ یہ کل آبادی کا 13 فی صد ہیں۔ دیگر مسلم ممالک اور یورپی ممالک سے آنے والے باشندوں کی بڑی تعداد بھی یہاں آباد ہے۔ یہ اعداد و شمار 200 صفحات پر مبنی ’فرینکفرٹ انٹیگریشن اینڈ ڈائیورسٹی مانیٹرنگ رپورٹ‘ میں شائع کیے گئے ہیں۔

loading...