اشاعت کے باوقار 30 سال

مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی پراسرار گمشدگی

 مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی پراسرار گمشدگی

اسلام آباد : مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی پراسرار گمشدگی جمعیت علماء اسلام اور وفاقی حکومت کا گٹھ جوڑ یا زبردستی پوپلزئی کے قریبی ساتھی اور جمعیت علمائے اسلام پشاورکے امیر مولانا خیبر البشر نے اپنی اور پوپلزئی کی گمشدگی کا الزام وفاقی حکومت پرعائد کر دیا ہے، وفاقی حکومت نے پوپلزئی کو 24 جون کو رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے سے روکنے کے لئے زبردستی ملک بدر کیا ہے ،مفتی پوپلزئی گذشتہ سال بھی عید الفطر سے قبل حکومتی خرچے پر عمرہ ادار کرنے چلے گئے تھے ، دونوں علماء کرام کی گمشدگی سے جے یو آئی کے حلقے باخبر ہونے کے باوجود خاموش رہے تاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو بدنام کیا جا سکے ۔ذرائع کے مطابق مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی جو 22 جون کو اپنے دیرینہ ساتھی اور جے یو آئی ضلع پشاؤر کے امیر مولانا خیبر البشر سمیت اچانک لاپتہ ہو گئے تھے اور بعد میں ان کے دبئی چلے جانے کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھی کے قریبی ساتھی مولانا خیبر البشر نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مفتی پوپلزئی کو مسجد قاسم علی خان میں 24 جون کو رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے سے روکنے کے لئے جبری طور پر ملک بدر کیا ہے اور مجھے بھی زبردستی غائب کر دیا تھا اپنے ویڈیو پیغام میں مولانا خیبر البشر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے پوپلزئی پر 24 جون کو مسجد قاسم علی خان میں رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد نہ کرنے کے لئے شدید دباؤ ڈالا اور ناکامی کی صورت میں انہیں ملک بدر کیا انہوں نے کہا کہ مسجد قاسم علی خان میں گذشتہ کئی عشروں سے رویت ہلال کی کمیٹیاں منعقد ہوتی ہیں اور اس میں علماء کرام بھرپور انداز میں شرکت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ مسجد قاسم علی خان کی جانب سے 27 مئی کو رمضان المبارک کا اعلان کیا گیا جب کہ حکومت کی جانب سے 28 مئی کو پہلا روزہ رکھا گیا تھا انہوں نے کہا کہ جب مسجد قاسم علی کی جانب سے 24 جون کو اجلاس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تو حکومت نے ظلم و جبر سے کام لیتے ہوئے کوششیں شروع کی کہ مسجد قاسم علی خان میں علماء کرام کا اجلاس منعقد نہ ہو سکے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اجلاس میں رکاؤٹ ڈالنے اور اس کا انعقاد روکنے کے لئے مفتی پوپلزئی کو جبراً ملک بد ر کیا اور مجھے بھی غائب کر دیا مگر اس کے باوجود علماء کرام نے مکمل جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مضبوط شہادتوں کی بنیاد پر عید الفطر کا فیصلہ کیا جس سے حکومت وقت اپنی سازشوں میں ناکام ہو گئی انہوں نے کہا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے 25 جون کو پشاور میں کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم بعد میں پسپائی اختیار کر لی جو کہ ان کی ناکامی کا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ ہم مفتی پوپلزئی کی جبری ملک بدری کی بھرپور مذمت کرتے ہیں واضح رہے کہ مفتی پوپلزئی اور اس کے قریبی ساتھ مولانا خیبر البشرکی گمشدگی کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے عوام اور علماء کرام کو ان سے بدظن کر دیا گیا اور اکثریتی حلقے اس کو حکومت کے ساتھ ملی بھگت قرار دے رہے ہیں ان حلقوں کا کہنا ہے کہ مفتی پوپلزئی اور مولانا خیبر البشر جن کا تعلق صوبے کی مضبوط مذہبی جماعت جے یو آئی سے ہے نے اپنے اکابرین کو اس صورت حال سے کیوں اگاہ نہیں کیا اور ان کے اکابرین نے گمشدگی کے حوالے سے اپنی تشویش کیوں ظاہر نہیں کی تھی ذرائع کے مطابق مفتی پوپلزئی کے بیرون ملک جانے اور مولانا خیبر البشر کی گمشدگی سے جمعیت علماء اسلام کی مرکزی اور صوبائی قیادت پوری طرح اگاہ تھی اور ایک ڈیل کے نتیجے میں مفتی پوپلزئی کو بیرون ملک جب کہ مولانا خیبر البشر کو کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر آمادہ کیا گیا تھا تاہم صوبے کی سطح پر شدید بدنامی کے بعد مولانا خیبر البشر نے ویڈیو پیغام کے زریعے اپنی اور مفتی پوپلزئی کی پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کی ہے واضح رہے کہ گذشتہ سال بھی مفتی پوپلزئی اور وفاقی حکومت کے مابین عید الفطر سے قبل ڈیل ہو گئی تھی اور مفتی پوپلزئی کو عید الفطر سے قبل سرکاری خرچے پر عمرے کی ادائیگی کے لئے بھجوا دیا گیا تھا جس کے بعد ملک میں ایک ہی دن عید کا انعقاد ہو گیا تھا ذرائع کے مطابق جمعیت علماء اسلام کی جانب سے مفتی پوپلزئی اور مولانا خیبر البشر کی گمشدگی کو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے خلاف استعمال کرنے کی کوششیں کی گئی اور سماجی حلقے کی ویب سائیٹ فیس بک اور ٹویٹر پر جے یو آئی کے حمایتیوں کی جانب سے حکومت کی مخالفت میں ٹویٹس بھی کئے گئے تاہم صوبائی حکومت معاملے سے مکمل طور پر غیر جانبدار ہونے اور مفتی پوپلزئی کی بیرون ملک روانگی کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد صوبے کے عوام کو جے یوآئی اور مرکزی حکومت کے گٹھ جوڑ کا علم ہو گیا تھا۔

loading...