اشاعت کے باوقار 30 سال

انعام الرحمان سحری خود کرپشن میں ملوث

 انعام الرحمان سحری خود کرپشن میں ملوث

اسلام آباد: شریف خاندان کے خلاف مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے دعویدار اور اب پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیش ہونے کے خواہش مند ریلویز پولیس کا سابق ایس پی انعام الرحمان سحری نیب زدہ نکلا اور سابق صدر پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) سے بھی مستفید ہوا ،انٹرپول نے ملزم انعام الرحمان سحری کی گرفتاری کے لئے ریڈوارنٹ جاری کر رکھے ہیں ،نیب نے سال 2007 میں انعام الرحمان سمیت پانچ ملزمان کی بیرون ملک سے گرفتاری کے لئے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا ،انعام الرحمان تاحال بیرون ملک روپوش ہے ۔
ذرائع کے مطابق شریف فیملی کے خلاف مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے اور شواہد رکھنے کے دعویدار ریلویز پولیس کے سابق ایس پی انعام الرحمان سحری جو جے آئی ٹی میں شریف خاندان کے خلاف بطور گواہ پیش ہونا چاہتا ہے وہ خود کرپشن میں ملوث رہا ہے اور نیب نے سال 2002 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں انعام الرحمان سحری کے خلاف کرپشن کی انکوائری اور تحقیقات مکمل کر کے کرپشن ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا تھا جس میں ان کے اثاثوں کی مالیت کو ان کی انکم سے کہیں زیادہ قرار دیا گیا تھا اور ان پر خرد برد کے الزامات عائد کئے گئے تھے جس کے بعد انعام الرحمان سحری گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش ہوا اور بیرون ملک فرار ہو گیا تھا ، احتساب عدالت کی طرف سے ملزم کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا جس پر سال 2007 میں نیب نے ملزم کی گرفتاری کے لئے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا اور باضابطہ طور پر اس کے ریڈ وارنٹ جاری کروائے تھے ۔ 4 ستمبر 2007 کو نیب کی طرف سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق انٹرپول نے نیب کی درخواست پر مجموعی طور پر پانچ ملزمان کی گرفتاری کے لئے ان کے ریڈوارنٹ جاری کئے تھے ، ان ملزمان پر کرپشن ، فراڈ ، جعل سازی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام تھا ، ان ملزمان میں ریلویز پولیس کے سابق ایس پی انعام الرحمان سحری ، او جی ڈی سی ایل کی خریداری کمیٹی کے ممبر راحیل جلال مولا،پاکستان ایگریکلچر اینڈ ریسرچ کونسل کے ڈاکٹر سی ایم انور خان ، پی آر سی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مظفر نشاط اور پی آر سی کے اسسٹنٹ ٹیکنیکل آفیسر اسلم پرویز درانی شامل ہیں ۔ پی آر سی کے افسروں کا کونسل کے لئے مارکیٹ ریٹ سے زائد قیمت پر گاڑیاں خرید کر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے جب کہ او جی ڈی سی کی خریداری کمیٹی کے ممبر راحیل جلال مولا قریشی نے ٹھیکوں کی نیلامی کے لئے قومی خزانے کو 112 ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا تھا ۔
دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق صدر پرویز مشرف کے درمیان ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) سے انعام الرحمان سحری بھی اسی طرح مستفید ہوا جس طرح سابق سیکرٹری خزانہ جاوید طلعت ، سابق سیکرٹری تجارت سلمان فاروقی ، سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رحمان اے ملک ،آڈیٹر سی ایم اے ابرار حسین جوکھر اور سی ڈی اے کے تین سابق ڈی سی چوہدری محمد اسلم ، محمد امین اور شوکت علی این آر او سے مستفید ہوئے تھے ۔