اشاعت کے باوقار 30 سال

سمندری تہہ کو خوبصورت نقش و نگار سے سجانے والی مچھلی

سمندری تہہ کو خوبصورت نقش و نگار سے سجانے والی مچھلی

ٹوکیو: پفر فش کہلانے والی مچھلی کی ایک قسم ایسی بھی ہے جس میں نر اپنی مادہ کو رِجھانے اور ملاپ کی خاطر متوجہ کرنے کے لیے سمندری تہہ میں بالکل گول اور خوب صورت نقوش و نگار بناتا ہے۔
جاپانی جزیرے امامیوشیما کے نزدیک سمندری تہہ میں جانے والے غوطہ خور برسوں سے وہاں خوب صورت نقوش و نگار دیکھ رہے تھے جو پہلی نظر میں ایسے لگتے تھے جیسے کسی ماہر آرٹسٹ نے اپنے فن کا نمونہ سمندری تہہ کی مٹی پر بنا دیا ہو۔ ان دلکش نقوش و نگار کی جسامت خاصی بڑی ہوتی ہے کہ جسے دیکھ کر ابتداء میں بحری حیاتیات (میرین بائیالوجی) کے ماہرین نے اندازہ لگایا کہ شاید سمندری تہہ میں کوئی بڑا جانور یہ کام کرتا ہو گا۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے ماہرین کی ایک ٹیم نے مسلسل ایک سال تک سمندری تہہ پر نظر رکھنے کے بعد ایک حیرت انگیز انکشاف کیا کہ سمندری تہہ میں بنے یہ خوب صورت فن پارے کسی بڑی سمندری مخلوق کا کارنامہ نہیں بلکہ ان کی تخلیق کار ایک ننھی منی ’نر پفر فش‘ ہوتی ہے جو دراصل اپنی مادہ کو متوجہ کرنے اور ملاپ کرنے کے لیے یہ ساری کارروائی کرتی ہے۔
ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ایک پُرکشش دائرے کی شکل میں دکھائی دینے والے یہ منظم نقوش و نگار بعض اوقات اس پفر فش کی اپنی جسامت کے مقابلے میں 20 گنا تک بڑے ہو سکتے ہیں جب کہ انہیں بنانے میں نر پفر فش کو 6 ہفتے تک لگ جاتے ہیں۔ اس دوران نر پفر فش نہ صرف سمندری تہہ میں ریت کو خاص انداز سے اِدھر اُدھر ہٹا کر لہریئے دار دائرے کی شکل میں لاتی ہے بلکہ اس خوب صورت جگہ کو سیپیوں اور گھونگھوں کے خول سے سجا کر اور بھی زیادہ دلکش بناتی ہے تاکہ مادہ پفر فش کی نگاہ اس پر پڑے تو وہ متاثر ہو کر فوراً اس طرف تیرتی چلی آئے اور نر کے ساتھ ملاپ کر کے اس کی نسل آگے بڑھائے۔ یہ تمام باتیں ماہرین کے مشاہدے میں آ چکی ہیں لیکن اب تک وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ایک ننھی سی مچھلی میں انتہائی پیچیدہ اور خوبصورت فن پارے تخلیق کرنے کی یہ غیرمعمولی صلاحیت کہاں سے اور کیسے پیدا ہوئی۔

loading...