اشاعت کے باوقار 30 سال

گرینفیل ٹاور کے تمام ہلاک شدگان کی شناخت شاید کبھی نہ ہو سکے

گرینفیل ٹاور کے تمام ہلاک شدگان کی شناخت شاید کبھی نہ ہو سکے

لندن: لندن میں پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے مغربی علاقے میں واقع بلند رہائشی عمارت گرینفل ٹاور میں آتشزدگی سے ہلاک ہونے والے تمام افراد کی شناخت شاید کبھی نہ ہو سکے۔ اب تک حکام نے اس حادثے میں 30 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور خدشہ ہے کہ یہ تعداد 70 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد 76 ہے اور آگ بجھانے والے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انھیں کسی کے بھی زندہ بچ جانے کی امید نہیں ہے۔ ایمرجنسی سروسز تیسرے روز بھی جلی ہوئی عمارت میں لاشوں کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملکہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ اور شہزادہ ولیم نے جمعے کو اس آتشزدگی سے متاثر ہونے والے افراد سے ملاقات کی ہے۔ شمالی کینزنگٹن میں واقع ایک 24 منزلہ رہائشی عمارت میں منگل کی شب سوا ایک بجے کے قریب آگ لگی اور آگ بجھانے والا عملہ کئی گھنٹے تک اس پر قابو پانے کی کوشش کرتا رہا۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مجرمانہ عمل کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعظم مے کا کہنا تھا کہ ’متاثرین کا حق ہے کہ انہیں جواب دیا جائے۔‘ ان کا یہ بیان ان کے جائے حادثہ کے دورے کے دوران بچ جانے والوں سے ملاقات نہ کرنے پر ہونے والی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ میٹرو پولیٹن پولیس کے کمانڈر سٹورٹ کنڈی نے امید ظاہر کی ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 100 سے تجاوز نہیں کرے گی تاہم انھوں نے کہا کہ ’ہمیں افسوس ہے شاید ہر شخص کی شناخت نہیں ہو پائے گی۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تاحال ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے یہ کہا جا سکے کہ آگ دانستہ طور پر لگائی گئی تھی۔ عمارت کی مالک کونسل کے سربراہ نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کو بتایا حکام نے گرینفل ٹاور کا ڈھانچہ ویسا نہیں بنایا گیا تھا جیسا کہ بورو میں موجود دوسری عمارتوں کا تھا۔ متاثرہ عمارت کے باہر حال ہی میں تزئین و آرائش کے لیے لگائی گئی پرت کی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے کیونکہ ماہرین کے بقول اس کی آگ سے بچاؤ والی بہتر قسم استعمال کی جا سکتی تھی۔

loading...