اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جارج واشنگٹن وفات پا گئے

ایرانی بندرگاہ کے ذریعے خطے پر بالا دستی کا بھارتی خواب چکنا چور

ایرانی بندرگاہ کے ذریعے خطے پر بالا دستی کا بھارتی خواب چکنا چور

نئی دہلی: غیر ملکی کمپنیوں نے ایرانی بندرگاہ میں سرمایہ کاری سے انکار کر دیا ہے جس کے نتیجے میں چاہ بہار کے ذریعے خطے پر بالا دستی قائم کرنے کے مذموم بھارتی عزائم خاک میں مل گئے ہیں۔ بھارت نے پاکستانی بندرگاہ گوادر کی ترقی میں رکاوٹ بننے کے جو خواب دیکھتے تھے وہ چکنا چور ہونے لگے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران پر دوبارہ امریکی پابندیاں عائد ہونے کے امکان کی وجہ سے مغربی کمپنیوں نے چاہ بہار بندرگاہ کے لیے بھارت کو آلات بیچنے سے انکار کر دیا۔ خلیج عدن میں واقع چاہ بہار بندرگاہ آبنائے ہرمز تک پہنچتی ہے، جس کے ذریعے بھارت نے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا اور افغانستان تک براہ راست رسائی کا منصوبہ بنایا ہے۔ بھارت اور ایران کے درمیان چاہ بہار میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدہ پر دستخط ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم بندرگاہ کو تعمیر کرنے والی سرکاری بھارتی فرم تاحال آلات بشمول کرینوں اور فورک لفٹس کی فراہمی کا ایک ٹینڈر بھی منظور نہیں کر سکی ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے متعلق رویہ جارحانہ ہے جس کی وجہ سے امریکی پالیسی میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ جیٹی اور کنٹینر ٹرمینل کا تعمیراتی سامان بنانے والے سوئس انجینئرنگ گروپ لائبہر اور فن لینڈ کی دو کمپنیوں کون کرینز اور کارگو ٹیک نے بھارت کی سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل پرائیوٹ لمیٹڈ کو آگاہ کیا کہ وہ چاہ بہار کے ٹھیکے میں بولی دینے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے بینکوں نے امریکی پالیسی کی غیر یقینی کے باعث ایرانی منصوبوں میں ٹرانزیکشنز کی سہولت فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ بھارتی حکام نے بتایا کہ نوبت یہ آ چکی ہے کہ ہم ٹھیکیداروں کے پیچھے بھاگتے پھر رہے ہیں۔ بولی دہندگان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بعض ٹینڈرز تین تین بار جاری کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اب تک صرف ایک چینی کمپنی زیڈ پی ایم سی نے ہی کچھ سامان فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔

loading...