اشاعت کے باوقار 30 سال

تھریسامے کیخلاف مظاہرے ،عہدے سے استعفی کا مطالبہ

تھریسامے کیخلاف مظاہرے ،عہدے سے استعفی کا مطالبہ

لندن: برطانیہ میں وزیر اعظم تھریسا مے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ پھوٹ پڑا ،عہدے سے فوری طور پر استعفی مطالبہ کردیا ۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے پر مستعفی ہونے کے لئے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور اب ملک میں ان کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ بھی پھوٹ پڑا ہے۔ برطانوی انتخابات میں تھریسا مے بظاہر تو جیت گئیں لیکن برطانوی دارالعلوم کی کئی سیٹیں ہارنے کے بعد ان پر اپنی ہی پارٹی سے مستعفی ہونے کا دباو بڑھتا جا رہا ہے۔ سینکڑوں مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں اور میگا فون کے ذریعے نعرے بازی کی گئی ۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد اب وزیر اعظم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔ دوسری طرف میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ اگر فوراً نہیں تو چند ماہ میں حالات اس کروٹ بیٹھیں گے کہ تھریسا مے کو مستعفی ہونا ہی پڑے گا۔ اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ممکنہ طور پر سابق لندن کے مئیر بورس جانسن برطانیہ کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔ ادھر لیبر پارٹی انتخابات میں اپنی اچھی کارکردگی پرجشن منا رہی ہے اور ان کے رہنما جیرمی کوربن نے یہاں تک کہا ہے کہ وہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دینے کے لئے تیار ہیں۔ برطانوی سیاسی تاریخ کے بدترین انتخابات نے کئی سوالیہ نشان چھوڑ دئے ہیں اور یورپی یونین سے برطانوی انخلا پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔

loading...