اشاعت کے باوقار 30 سال

برطانوی انتخابات: تھریسا مے ایک بار پھر حکومت بنانے کی پوزیشن میں

برطانوی انتخابات: تھریسا مے ایک بار پھر حکومت بنانے کی پوزیشن میں

لندن: برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے الیکشن میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد پانچویں نمبر پر آنے والی جماعت ڈی یو پی سے حکومت سازی کا معاہدہ کر لیا ہے۔ برطانیہ میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں کنزرویٹیو پارٹی نے 650 میں سے 318 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس کے باوجود اس کے پاس سادہ اکثریت کے لیے مطلوبہ 326 ارکان کی حمایت حاصل نہیں، جس کے لیے پارٹی نے ایک اور جماعت ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) سے شراکت اقتدار کے حوالے سے رابطے کئے ہیں۔ ڈی یو پی نے حالیہ انتخابات میں 10 نشستیں اپنے نام کی ہیں، دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان حکومت سازی کے لیے معاملات طے پاگئے ہیں۔ اسی بنیاد پر تھریسا مے نے اپنی پارٹی سے استعفے کے لیے اٹھنی والی آوازوں پر کان دھرنے کے بجائے ملکہ برطانیہ سے ملاقات کر کے حکومت سازی کی اجازت حاصل کرلی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تھریسا مے نے دوبارہ حکومت بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بریگزٹ کے معاملے پر بات چیت دس دن کے اندر شروع کردی جائے گی۔ دوسری جانب لیبر پارٹی ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے جس کے ارکان کی تعداد 261 ہے، ایوان زیریں میں تیسری بڑی سیاسی قوت اسکاٹش نیشنل پارٹی ہے جس نے 35 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی نے لیبر پارٹی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کے بعد دونوں جماعتوں کے مجموعی ارکان کی تعداد 296 ہو جائے گی۔ لیبر پارٹی نے اس کے علاوہ دیگر جماعتوں سے بھی رابطے کئے ہیں۔

loading...