اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

چین کے ساحل کے پاس فیری ڈوب گئی

قطر کے خلاف عرب ممالک کی پابندیاں ، بھارت کی مشکلات بڑھ گئیں

قطر کے خلاف عرب ممالک کی پابندیاں ، بھارت کی مشکلات بڑھ گئیں

نئی دہلی: قطر کے خلاف اٹھائے گئے عرب ممالک کے حالیہ اقدامات کے باعث بھارت کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ۔بھارتی ائیر لائنز کو دوحہ پنچنے کیلئے پاکستان اور ایران کے علاوہ کوئی متبادل روٹ میسر نہیں ہو گا جس سے مسافروں کو پریشانی کے علاوہ ان کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو گا غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کی جیٹ ائیر ویز،ائیر انڈیا ایکسپریس ،اور انڈی گو پروازیں متحدہ عرب اماارت کی جانب سے قطر پر لگائی جانے والی حالیہ پابندیو کی وجہ قطری دارلحکومت دوحہ تک پہنچنے کیلئے اب پاکستان اور ایران کی فضائی حدود استعمال کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں ان فضائی کمپنیوں کو اپنی پروازوں کو چلانے پر فیول کی مد اضافی اخراجات پڑ رہے ہیں عر ب خطے میں حالیہ سفارتی کشید گی کے باعث سعودی عر ب سمیت دیگر عر ب ممالک نے دہشت گردی کو سپورٹ کرنے پر قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کر دےئے ہیں جس سے ان ملکوں کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے سے فلائٹ آپریشن کا فی متاثر ہوا ہے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2016 میں بھارت سے دوحہ کیلئے تقریبا 28لاکھ مسافروں نے سفر کیا ۔ائیر انڈیا ایکسپریس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر( سی ای او) کے شیام سند ر کا کہنا ہے کہ یو اے ای کی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی کے بعد ہم متبادل روٹ اختیار کر رہے ہیں جس سے ہماری پروازوں کو منزل مقصود تک پہنچنے میں گھنٹہ یا آدھے گھنٹے کا اضافہ ہو گا او ر ہمیں یواے اے کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کرنا ہو گا اور پاکستان اور ایران کی فضائی حدود استعمال کر نا ہو گی ائر انڈیا ایکسپریس کو ممبئی سے دوحہ تک پہنچنے کیلئے ساڑھے تین گھنٹے لگتے ہیں جبکہ کوزی کودے سے دوحہ تک روٹ تبدیل ہونے سے اس میں چارگھنٹے لگیں گے انڈی گو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دوحہ روانگی کیلئے ہماری پروازیں پاکستان سے کراچی جبکہ ایران سے بندر عباس سے اڑان بھریں گی ترجمان کا کہنا تھا کہ ائیر لائن دوحہ کیلئے اپنی پروازیں چنائی اور کوزی کودے سے بھی چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے جبکہ جیٹ ائیر ویز ترجمان کا بھی یہی موقف ہے کہ یواے ای کی فضائی حددو استعمال کرنے سے بچنے کیلئے براستہ ایران دوحہ پہنچیں گے اور اس متبادل روٹ اختیار کرنے سے مسافروں کو 10سے 40منٹ کا اضافی وقت برداشت کر نا ہو گا۔

loading...