اشاعت کے باوقار 30 سال

برطانیہ میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ

برطانیہ میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ

لند ن:برطانیہ میں عام انتخابات کے لیے جمعرات کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ الیکشن میں ایک ہزار کے قریب خواتین امیدوار بھی حصہ لے رہی ہیں ان میں پاکستانی نژاد خواتین کی نمایاں تعداد شامل ہے۔خواتین امیدواروں کے اعتبار سے حالیہ الیکشن تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں برطانیہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ خواتین امیدوار مقابلے میں حصہ لے رہی ہیں۔انتخاب جیت کر درجن بھر پاکستانی اور مسلم خواتین کے پارلیمان میں پہنچنے کا امکان ہے۔تحقیقاتی ادارے ڈیموکریسی کلب کے اعداد و شمار کے مطابق برطانوی انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد میں 1918 سے لیکر اب تک 30 فی صد اضافہ ہوا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لیبر پارٹی نے اپنی 41 فی صد سیٹوں کے لئے خواتین کو نامزد کیا ہے جب کہ اسکاٹش نیشنل پارٹی نے 33 فی صد، لبرل ڈیموکریٹس نے 30 فی صد اور حکمران جماعت کنزرویٹیو پارٹی نے صرف 29 فی صد سیٹوں پر خواتین کو ٹکٹ دئے ہیں جس میں برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے بھی شامل ہیں۔ لیبر پارٹی کی نمائندگی کرنے والی پاکستانی نژاد خواتین امیدواروں میں برمنگھم سے شبانہ محمود، بولٹن سے یاسمین قریشی اور ٹوٹنگ سے روزینہ الین خان شامل ہیں۔8 جون کو ہونے والے برطانوی عام انتخابات 2017 میں درجنوں سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کل تین ہزار تین سو تین امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ مقابلہ 650 سیٹوں کے لئے ہے۔ کسی بھی پارٹی کو پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے 326 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ برطانوی سیاست میں دو جماعتوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، دائیں بازو کی کنزرویٹو پارٹی اور بائیں بازو کی لیبر پارٹی۔ دیگر پارٹیوں میں اسکاٹش نیشنل پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس، ڈیموکریٹک یونیینسٹ، یوکپ، گرین پارٹی، ایس ڈی ایل پی شامل ہیں۔ 2015 کے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے کل 331 سیٹس حاصل کیں، لیبر پارٹی نے 232، اسکاٹش نیشنل پارٹی نے 56، اس کے بعد ہونے والے متعدد ضمنی انتخابات سے پارلیمان میں اعداد و شمار میں تبدیلی آئی۔ وزیراعظم ٹریزا مے کی پارٹی کو اس وقت 330 اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ برطانیہ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت حاصل ہے۔ 229 اراکین کے ساتھ لیبر پارٹی مرکزی حزب اختلاف کی حیثیت رکھتی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے زیک گولڈ اسمتھ نے اپنی کھوئی ہوئی نشست دوبارہ حاصل کر لی ہے۔

loading...