اشاعت کے باوقار 30 سال

لندن برج واقعے کے تیسرے حملہ آور کی شناخت ظاہر

لندن برج واقعے کے تیسرے حملہ آور کی شناخت ظاہر

لندن برج پر پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے میں ملوث تیسرے حملہ آور کی شناخت یوسف زغبہ کے نام سے ہوئی ہے جو اطالوی مراکشی شخص ہیں۔ گذشتہ روز دو حملہ آوروں کی شناخت ہوئی تھی جن میں پاکستانی نژاد خرم بٹ اور لیبیائی نژاد رضوان راشد شامل تھے۔ دریں اثنا اس حملے کا نشانہ بننے والوں میں سے ایک اور کی شناخت کر لی گئی ہے جن کا نام کرسٹی بوڈن ہے اور ان کا تعلق آسٹریلیا سے ہے۔ ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ لندن برج کی جانب بھاگ کر گئی تھیں تاکہ وہاں موجود دیگر افراد کی مدد کر سکیں۔ خیال رہے کہ سنیچر کی رات ہونے والے اس حملے میں سات افراد ہلاک اور 48 زخمی ہوئے تھے۔ این ایچ ایس انگلینڈ کا کہنا ہے کہ اب بھی 36 افراد ہسپتال میں موجود ہیں جن میں سے 18 کی حالت نازک ہے۔ خرم بٹ اور ان کے دو ساتھیوں نے بورو مارکیٹ میں لوگوں کو چاکو سے مارنے سے قبل ایک وین لندن بریج پر پیدل چلنے والے افراد پر چڑھا دی تھی۔ بعد میں پولیس کو کال موصول ہونے کے آٹھ منٹ کے اندر ہی ان حملہ آوروں کو موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس نے اتوار کو بارکنگ کے ایک فلیٹ سے چند خواتین سمیت 12 افراد کو بھی حراست میں لیا تھا جنھیں بعد میں رہا کر دیا۔ تاہم میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کو ایک 27 سالہ شخص کو اس حملے سے تعلق میں حراست میں لیا گیا ہے۔ اس سے قبل گذشتہ روز حکام کا کہنا تھا کہ 27 سالہ خرم بٹ شادی شدہ تھے اور ایک بچے کے والد تھے۔ وہ کئی سالوں سے مشرقی لندن میں بارکنگ کے علاقے میں مقیم تھے۔ خرم بٹ کو ایک مرتبہ اسلامی شدت پسندی کے بارے میں اور جیل میں قید مبلغ انجم چوہدری سے روابط کے حوالے سے چینل فور کی ڈاکیومنٹری میں شامل کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق اس حملے میں ملوث دوسرے حملہ آور کا تعلق مراکش سے تھا اور ان کا نام راشد رضوان تھا۔ ان کی عمر 30 سال تھی۔ واضح رہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔ دوسری جانب پیر کی صبح پولیس کا کہنا تھا کہ حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں مشرقی لندن میں نیو ہیم اور بارکنگ کے علاقوں میں مزید دو مقامات کی تلاشی لی گئی اور کئی افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔

loading...