اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

لندن حملے: تینوں حملہ آوروں کو شناخت کر لیا گیا

لندن حملے: تینوں حملہ آوروں کو شناخت کر لیا گیا

لندن: لندن میں ہفتہ کی شب پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کرنے والی برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان تینوں حملہ آوروں کی شناخت کر چکے ہیں جنھوں نے لندن برج اور بورو مارکیٹ میں سات افراد کو ہلاک اور 48 کو زخمی کیا تھا۔ پولیس نے ان تینوں حملہ آوروں کو بھی موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد کے نام 'جتنی جلدی ممکن ہو سکا' عام کر دیے جائیں گے کیونکہ تفتیش کار یہ جاننے کے لیے کوشاں ہیں کہ آیا وہ کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ تو نہیں تھے۔ پیر کی صبح پولیس نے کہا ہے کہ حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں مشرقی لندن میں نیو ہیم اور بارکنگ کے علاقوں میں مزید دو مقامات کی تلاشی لی گئی ہے اور کئی افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ پولیس نے اتوار کو بارکنگ کے ایک فلیٹ سے چند خواتین سمیت 12 افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں سے ایک 55 سالہ شخص کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے رہا کر دیا گیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ فلیٹ تین حملہ آوروں میں سے ایک کا ہے۔ میٹرو پولیٹن پولیس کی کمشنر کریسیڈا ڈک نے کہا ہے کہ پولیس کو حملہ آوروں کی ویگن سے اور چھاپوں کے دوران بہت بڑی تعداد میں فورینزک مواد ملا ہے۔ 'بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور ترجیح اب یہ بات جاننے کی ہے کہ اس منصوبے میں کوئی اور شامل تھا یا نہیں۔ برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ 10 بج کر آٹھ منٹ پر ملنے والی مدد کی پہلی کال کے آٹھ منٹ بعد مشتبہ افراد سے مدبھیڑ کے بعد پولیس اہلکاروں نے انھیں گولی مار دی تھی۔ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ لندن برج کا ریل اور ٹیوب سٹیشن پیر کی صبح کھول دیے گئے ہیں جبکہ پل کے اردگرد کی سڑکوں پر کھڑی رکاوٹیں بھی ہٹا لی گئی ہیں۔ ادھر دو افراد نے بی بی سی کے ایشیئن نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایک حملہ آور کے بارے میں پولیس کو متنبہ کیا تھا۔ ایک شخص نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں میں سے ایک گذشتہ دو برس میں انتہاپسندی کی جانب زیادہ مائل ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے ایک حملے کے بارے میں بات کی تو زیادہ تر شدت پسندوں کی طرح اس کے پاس ہر چیز کی توجیح تھی اور اس دن مجھے احساس ہوا کہ مجھے حکام سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی جانب سے اطلاع دیے جانے کے بعد بھی حکام نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ 'میں نے اپنا فرض نبھایا لیکن حکام نے ایسا نہیں کیا۔' میٹرو پولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر مارک راؤلی کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے افراد میں سے 36 تاحال زیرِ علاج ہیں اور ان میں سے 21 کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جنھوں نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی اور ان میں سے بھی دو شدید زخمی ہیں۔

loading...