اشاعت کے باوقار 30 سال

ہم مائیں, ہم بہنیں, ہم بیٹیاں, قوموں کی عزت ہم سے ہے

ہم مائیں,  ہم بہنیں, ہم بیٹیاں, قوموں کی عزت ہم سے ہے

ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﻮﺍ ، ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﯾﻢ، ﮐﺒﮭﯽ زﮬﺮﺍ .... ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﮨﺮﺍﯾﮏ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻻ

اگر ان الفاظ پہ غور کیا جائے اور کچھ دیر کے لئے سوچھا جائے تو آپ ایک گہری سوچ میں کھو جائیں گے. "قوموں کی عزت ہم سے ہے " امن کا پیغام لیے اسلام آباد سے پشاور اور تمام خیبر پختونخوا سوات, بٹگرام, بحرین وغیرہ کا موٹر سائیکل پہ سفر اس قوم کی بیٹی گل آفشاں طارق جس نے پڑوسی ممالک کو اور پاکستانیوں کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کا ہر شہر امن کا گہوراہ ہے. گل آفشاں طارق نے اس سے پہلے سائیکل پہ اسلام آباد سے خنجراب پاس کاسفر کرکے ملک کا نام روشن کیا .کچھ روز پہلے اس نے موٹرسائیکل پہ خیبرپختونخوا کا سفر کر کے اپنا نام پاکستان بک آف ریکارڈ میں شامل کرلیا. گل آفشاں کے اس پورے سفر کی فلم کم عمر ترین نوجوان جس کی عمر 17 سال ہے حیدر علی کو بھی یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ بھی پاکستان بک آف ریکارڈ میں اپنا نام شامل کرنے والوں نوجوان میں شامل ہوا.. گل آفشاں طارق کا یہ سفر 20 دن اور تقریباً 3823 کلومیٹر پہ مشتمل رہا.

گل کہ مطابق میں آج یہ فخر محسوس کررہی ہوں کہ میں نے خیبر پختونخوا کے ایسے علاقوں میں بھی موٹرسائیکل پہ سفرکیا جہاں لڑکے پہ سفر کرتے وقت ڈرتے ہیں.ڈیرہ اسماعیل خان, کوہاٹ, کرک وغیرہ ایسے علاقے ہے جہاں اکثر لڑکے سفر کرتے وقت گھبرا جاتے ہیں مگر میں امن کا پیغام لیکر اس سفر پہ نکلی تھی اس لیے میرے نزدیک کسی ڈر نے مجھے گھیرا ڈال کی کوشش نہیں کی.

گل آفشاں کے مطابق اس نے خیبر پختونخوا گورنمنٹ سے مدد بھی مانگی تھی, کے پی کے ایم این اے, ایم پی اے سے ملاقات بھی کی مگر انہوں نے دو ماہ تک کوئی جواب نہ دیا. بلآخر گل آفشاں طارق اپنے اس سفر پہ روانہ ہوئی. گل کہ مطابق میں نے خواتین کے حقوق کے لیے آواز اُٹھائی اور ان لوگوں کو یہ بتانا چاہتی تھی جو کہتے تھے کہ ہمارے ملک میں امن نہیں اگر میں خیبرپختونخوا کے ایسے علاقوں میں سفر کرسکتی ہوں آزادی کے ساتھ تو ہر کوئی کرسکتا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن ہے اور یہاں کہ لوگ مہمان نواز ہونے کے ساتھ ساتھ امن پسند بھی ہے.

گل جیسے بہت سے باہمت لڑکے اور لڑکیاں موجود ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے بہت سے ادارے بھی کام کر رہی ہیں مگر افسوس نہ ایسے نوجوان نسل کی پزرائی کی جاتی ہے اور نہ ایسے اداروں کی مدد کی جاتی. اللہ تعالیٰ ایسے نوجوانوں کو مذید ہمت اور صلاحیت عطاء کرے جو ملک پاکستان کا نام روشن کررہیں ہیں___آمین

تحریر: سید اسد کاکاخیل