اشاعت کے باوقار 30 سال

سوشل میڈیا کی مدد سے بچوں کے جنسی استحصال کے مجرموں کی تلاش

سوشل میڈیا کی مدد سے بچوں کے جنسی استحصال کے مجرموں کی تلاش

یورپ کی پولیس ایجنسی نے اپنی ویب سائٹ پر ایک نیا صفحہ لانچ کیا ہے جس پر بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر میں موجود مختلف اشیا پوسٹ کی گئی ہیں تاکہ ان کی مدد سے مجرموں اور متاثرین کا پتہ لگایا جا سکے۔ یورپیئن پولیس کو توقع ہے کہ کسی بیگ پر ایک خاص قسم کا لوگو یا پھر شیمپو کی ایک بوتل کسی ایک شخص کو چوکس کر سکتی ہے جو بعد میں خفیہ طریقے سے پولیس سے رابطہ کر سکتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کی مدد سے اس بارے میں آگاہ کرسکتا ہے۔ اس سے متعلق تمام تصاویر کا تعلق ان فعال کیسز سے ہے جنھیں جاسوس یا سراغ رساں ادارے اب تک حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یورپیئن پولیس میں سائبر کرائم سینٹر کے سربراہ سٹیون ولسن کا کہنا ہے کہ بیکار اشیا سے کئی بار اہم چیزوں تک رسائی ہوجاتی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان تصاویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے شاید لوگ ان اشیا یا علاقے سے متعلق کوئی معلومات دے سکیں۔ انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات چيت میں کہا: 'ہم اس میں ان خاص اجزا، خاص چیزوں کی شناخت کر رہے ہیں جو دنیا کے بعض خاص علاقوں، ایک خاص ملک یا پھر ایک خاص شہر یا گاؤں کے لیے منفرد ہوتی ہوں۔' 'پھر ہم دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں اور ان افراد کی شناخت کر سکتے ہیں جو اس کے لیے ذمہ دار ہوں۔' اس ویب سائٹ کے صفحے پر ہر تصویر، جسے بچوں کا جنسی استحصال کرنا بند کرو، اس چیز کا پتہ کرو کا نام دیا گيا ہے، کے نیچے خفیہ طور پر خبر دینے سے متعلق یا پھر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کا آپشن دیا گيا ہے۔ یورپیئن پولیس نے گذشتہ برس خبردار کیا تھا کہ ویب سائٹ پر بچوں کے جنسی استحصال کی براہ راست نشریات ایک 'بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔' اس سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جنسی استحصال کے مرتکبین اس کے لیے ایسی جدید ترین تکنیک کا استعمال کرتے ہیں جس کی مدد سے وہ گمنام رہنے میں کامیاب رہتے ہیں اور نئے افراد کو نشانہ بنانے کے لیےتلاش میں لگے رہتے ہیں۔

loading...