اشاعت کے باوقار 30 سال

کورٹ آف اپیل نے جسٹس سوسن گوڈمین کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

کورٹ آف اپیل نے جسٹس سوسن گوڈمین کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

جمعرات کے روز جسٹس ڈیوڈ پیشیاکو ، جسٹس جین میک فارلینڈ اور ڈیوڈ ڈوہرکی پر مشتمل اونٹاریو کی صوبائی کورٹ آف اپیل نے کئی ماہ تک ایک خاتون پر وحشیانہ جسمانی و جنسی تشدد کے ملزم کو بغیر کوئی ٹھوس وجہ بتائے بری کر دینے کے فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا۔ کورٹ نے جسٹس سوسن گوڈمین کی عدالتی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اور لاپرواہی پر سخت تنقید کی۔ عدالت نے اس مقدمے کی نئے سرے سے سماعت کا حکم دیا ہے۔ کوٹ نے کہا کہ متعدد بار توجہ دلانے اور وعدہ کرنے کے باوجود مذکورہ جج اپنے فیصلہ کی ٹھوس وجوہات پیش نہیں کر سکیں۔ کورٹ آف اپیل نے مذکورہ جج کو آخری مرتبہ تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کوئی کوتاہی برداشت نہین کی جائے گی۔ یاد رہے کہ جسٹس گوڈ مین نے 11 مارچ 2016 کو سلیوسکا کو بغیر کوئی ٹھوس وجہ بتائے تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ انہوں نے کورٹ آف اپیل سے تین رز بعد اپنے فیصلے کی ٹھوس وجوہات پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا جو وہ پورا نہیں کر سکیں۔

loading...