اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

چین کے ساحل کے پاس فیری ڈوب گئی

فوج پر تنقید آسان ہے مگر اس کی تکلیف کا کسی کو احساس نہیں

فوج پر تنقید آسان ہے مگر اس کی تکلیف کا کسی کو احساس نہیں

اسلام آباد: عالمی عدالت انصاف سے کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کو عبوری ریلیف ملنے پر جہاں پاکستان کے بائیکاٹ نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہیں مقررہ وقت سے پہلے ہی دلائل ختم کرنے پر وکلاء کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس کا ذمہ دار بعض حلقے موجودہ حکومت کو بھی ٹھہرا رہے ہیں لیکن اب عسکری حکام نے دو ٹوک اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ کلبھوشن یادیو کیس میں وکیل بھی پاک فوج نے بھیجا ہے۔ مقامی الیکٹرانک میڈیا اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز ہونے والے سیمینار کے موقع پر ایک سوال کے جواب میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کیس میں بھی وکیل ہم نے بھیجا ہے، ساری ذمہ داری صرف فوج پر ڈالنے سے ملک آگے نہیں چل سکتا سب کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی اور فوج اکیلے کچھ نہیں کر سکتی۔ پاک فوج کے سپہ سالار نے کہا کہ گزشتہ دنوں فوج اور بالخصوص مجھے ٹارگٹ کیا گیا، کراچی یا بلوچستان میں کچھ ہو تو فوج کو بلایا جاتا ہے، ریکوڈک پر فوج کام کر رہی ہے، انڈس واٹر ٹریٹی پر فوج کام کر رہی ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ہم نے جرات آمیز جنگ لڑی، فوج پر تنقید آسان ہے مگر اس کی تکلیف کا کسی کو احساس نہیں، مجھے احساس ہے جوان 24 گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی ادارے پر ذمہ داری ڈالنے سے کچھ نہیں ہو گا، تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

loading...