اشاعت کے باوقار 30 سال

خالد لطیف نے اپنے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے تمام تر الزامات کو مسترد کر دیا

خالد لطیف نے اپنے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے تمام تر الزامات کو مسترد کر دیا

لاہور: پاکستان سپر لیگ کے اسپاٹ فکسنگ کیس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خالد لطیف کے پاس سے وہ گرپ برآمد ہوئی جو انہیں بکی نے دی جسے انہوں نے بیٹ پر چڑھایا اور اس بات کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ جمعے کو اسپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت کے دوران خالد لطیف اپنے وکیل بدر علم کے ہمراہ تین رکنی ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے جہاں ملزم نے اپنے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے تمام تر الزامات کو مسترد کر دیا۔ پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے کہا کہ خالد لطیف نے ٹربیونل کے سامنے جھوٹ بولا اور وہ ایک سے زیادہ مرتبہ بکیز سے ملے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خالد لطیف کے پاس سے بکی کی دی ہوئی گرپ برآمد ہوئی جسے انہوں نے بیٹ پر چڑھایا تھا اور اس بات کو تسلیم بھی کیا۔ تفضل رضوی نے کہا کہ خالد لطیف کے وکیل کو کیس کا صحیح علم ہی نہیں اور وہ اسپاٹ فکسنگ کے بجائے میچ فکسنگ کا کیس لڑ رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے خالد لطیف کے وکیل پر الزام عائد کیا کہ وہ بار بار ٹریبونل کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور ٹربیونل کی کارروائی کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹریبونل کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد لطیف کے وکیل بدر عالم نے کہا کہ آج کی سماعت میں ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور پی سی بی کے قانونی مشیر نے انہیں بلیک میلر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ٹربیونل نے خالد لطیف کا دس فروری کو دبئی میں لیے گئے انٹرویو کی ریکارڈنگ چلائی تو اس دوران جب بھی خالد لطیف کوئی بات کرنا چاہتے تو کیس کے تفتیشی افسر کرنل صاحب کوئی اور بات شروع کر دیتے۔ ’خالد نے انٹرویو میں کہا کہ بکی نے جو آفر کی وہ میں نے قبول نہیں کی کیونکہ میں اپنا کیریئر خراب نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ اگر آپ کہیں تو میں بکی کو فون کر کے بلاتا ہوں لیکن کرنل صاحب نے آگے بات کرنے نہیں دی، یہ سب ریکارڈ شدہ گفتگو ہے‘۔ انہوں نے پی سی بی کے قانونی مشیر پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مستقل خالد لطیف کی باتوں کو کاٹا اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے نہیں دیا۔ بدر عالم نے کہا کہ پاکستان کے قانون میں الزام لگانے والا ہی ثبوت لاتا ہے لیکن پی سی بی کے ٹریبونل کا کوڈ کہتا ہے کہ پی سی بی الزام لگائے گا اور کھلاڑی کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑے گی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ خالد لطیف پر میچ فکسنگ کا الزام عائد کیا ہے جبکہ میچ فکسنگ اس وقت ہوتی ہے جب آپ میچ کھیلیں حالانکہ خالد لطیف تو میچ کھیلا ہی نہیں تو پھر میچ فکسنگ کیسے کر لی۔انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں عمر امین نے اعتراف کیا کہ وہ تین سال سے یوسف نامی بکی کو جانتے ہیں اور وہ ایک جنٹلمین آدمی ہیں اور بکی سے دبئی میں کئی مرتبہ ملے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جو بہت بڑا تضاد ہے۔