اشاعت کے باوقار 30 سال

کلبھوشن یادیو کے معاملے سے ہمارے قومی مفادات اور خودمختاری وابستہ ہے

کلبھوشن یادیو کے معاملے سے ہمارے قومی مفادات اور خودمختاری وابستہ ہے

اسلام آباد: سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے سے ہمارے قومی مفادات اور خودمختاری وابستہ ہے‘ مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے‘ نیوز لیکس اور ٹویٹ کا معاملہ کلوز ہو چکا ہے، مزید بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جنرنلسٹس (دستور) کے شرکاء کے اعزاز میں اپنی طرف سے دیئے گئے ظہرانہ کے موقع پر کیا۔ پی ایف یو جے (دستور) سے ملک بھر سے شرکاء دستور گروپ کے سالانہ انتخابات کے لئے اسلام آباد پہنچے، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے ان کا پارلیمنٹ ہاؤس میں خیر مقدم کیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میڈیا سے میرے تعلقات میرے لئے اثاثہ سے کم نہیں ہیں، ذرائع ابلاغ کو عوامی مسائل پر اپنی سفارشات مجالس قائمہ میں پیش کرنی چاہئیں۔ سپیکر نے کہا کہ وہ کلبھوشن یادیو کی پھانسی کی سزا کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت مقدمہ کے حوالے سے زیادہ عبور نہیں رکھتے صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس سے پاکستان کے مفادات اور خودمختاری وابستہ ہے اس پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نیوز لیکس اور ٹویٹ کا معاملہ کلوز ہو چکا ہے اس ایشو پر کم سے کم بات ہونی چاہئے قومی سلامتی کے معاملات پر پارلیمنٹ میں کھل کر بحث ہوتی ہے۔ پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی بھی متحرک ہے اور کلبھوشن یادیو کی سزا سے متعلق عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت مقدمے کے معاملے پر پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے۔ سب کے مضبوط قومی مفادات ہیں انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں گیس کی قیمتوں پر چار بار بحث ہو چکی ہے لوڈشیڈنگ پر بھی ایوان میں کھل کر بات اور حکومت کو سفارشات بھجوائی گئی ہیں سپیکر نے کہا کہ ایوان میں زیادہ سے زیادہ عوامی ایشوز پر بات ہونی چہائے بدقسمتی سے سیاست اور انتخابات میں پیسے کا عمل دخل بڑھ گیا ہے ایوانوں میں بھی یہ پیسے والے پہنچ جاتے ہیں جو اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سپیکر نے کہا کہ اگر کوئی رکن ایوان سے چالیس دنوں سے زیادہ غیر حاضر رہتا ہے تو میرا کام اس کے خلاف تحریک کی منظوری کروانا ہے۔ ایوان میں اراکین کی موجودگی کو یقینی بنانا سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے اس حوالے سے سیاسی جماعتوں پر دباؤ نہیں ڈال سکتے۔ ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں پارلیمانی جماعتوں سے کورم کے مسئلے پر بات کرتے ہیں دباؤ تو نہیں ڈال سکتے۔ جمہوریت پختہ ہو رہی ہے کیڑے نکالنے بیٹھ جائیں تو کہا جائے گا یہ بھی نہیں یہ بھی نہیں کیا، جمہوری اقدار کے پختہ ہونے میں وقت لگے گا۔