اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

سویڈش پراسکیوٹر کا جولین اسانج کے خلاف جاری تحقیقات سے دستبرداری کا فیصلہ

سویڈش پراسکیوٹر کا جولین اسانج کے خلاف جاری تحقیقات سے دستبرداری کا فیصلہ

لندن: سویڈش پراسیکیوٹرز نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے خلاف جاری ریپ کیس کی تحقیقات سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا، جس پر جولین اسانج کے وکلاء کا ماننا ہے کہ اس سے جولین کی اخلاقی فتح ہوئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جولین اسانج 2012 سے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں مقیم ہیں، تاہم برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ جولین اسانج کو اب بھی گرفتار کیا جائے گا کیونکہ انہوں نے 2012 میں جاری ہونے والے وارنٹ پر گرفتاری نہ دے کر اپنی ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی تھی۔ برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس کا کہنا ہے کہ اس جرم کی سزا ایک سال تک قید یا پھر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ پراسیکیوٹر آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ڈائریکٹر پبلک پراسیکیوشن ماریانے نئے نے آج جولین اسانج کے خلاف ہونے والی مبینہ ریپ کیس کی تحقیقات کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے کچھ دیر بعد ہی جولین اسانج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ایک تصویر شائع کی جس میں وہ مسکراتے ہوئے دکھائی دیئے۔ اس موقع پر جولین اسانج کی قانونی ٹیم کے ایک وکیل پار سموئلسن نے سویڈش ریڈیو کو بتایا کہ یہ فیصلہ ان کے موکل کی اخلاقی فتح ہے جس سے جولین اسانج یقیناَ خوش اور مطمئن ہیں۔ سموئلسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مطلب ہے کہ اب جولین اسانج کسی بھی وقت ایکواڈور سفارت خانے کو چھوڑنے کے لیے آزاد ہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اسانج کس وقت سفارتخانہ چھوڑ سکتے ہیں۔

loading...