اشاعت کے باوقار 30 سال

قاتلانہ حملے میں زخمی ہونیوالی قانون کی طالبہ کیلئے دہرا امتحان

لاہور: لاہور میں قاتلانہ حملے میں زخمی قانون کی طالبہ خدیجہ آج دہرے امتحان سے گزری، ایک تو تعلیمی امتحان تھا، جبکہ دوسرا اعصاب کا امتحان تھا۔ قانون کا پرچہ دینے والی خدیجہ آج جس امتحانی مرکز میں بیٹھ کر پرچہ دے رہی تھی، اسی کمرہ امتحان میں اس پر قاتلانہ حملے کا ملزم بھی پرچہ دے ر ہا تھا، جس کلاس فیلو نے خنجر کے وار سے خدیجہ کو زخمی کیا تھا وہ آج اسی کمرہ امتحان میں موجود تھا۔ خدیجہ کہتی ہے کہ ملزم کی کمرہ امتحان میں موجودگی کے باعث خوف سے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ یادر ہے کہ 22 سالہ خدیجہ کو ایڈووکیٹ سید تنویر ہاشمی کے بیٹے شاہ حسین نے گذشتہ سال 3 مئی کو اس وقت حملے کا نشانہ بنایا تھا جب خدیجہ کے فائنل امتحانات میں صرف تین روز باقی تھے۔ خدیجہ اپنی سات سالہ بہن صوفیہ کو اسکول سے گھر واپس لانے کے لیے گئی تھی اور ابھی اپنی گاڑی میں بیٹھنے ہی والی تھی کہ ہیلمٹ پہنے شاہ حسین ان کی جانب بڑھے اور خدیجہ کو 23 بار خنجر سے تشدد کا نشانہ بنایا۔واقعے کے ایک ہفتے کے اندر لاہور ہائی کورٹ میں ملزم کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا، عدالت کے سامنے شواہد پیش کیے گئے اور شاہ حسین کی شناخت یقینی بنانے کے لیے ویڈیو فوٹیج بھی پیش کی گئی۔تاہم لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے ستمبر 2016 میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کیے جانے کے باوجود دوماہ بعد شاہ حسین کو سیشن کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری مل گئی۔ خدیجہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ ایک سال سے انصاف کی تلاش ہے، چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں۔

Khadija Siddiqi Stabbed her class fellow 23 times in broad daylight last year,