اشاعت کے باوقار 30 سال

پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواجہ سرا یونیورسٹی میں لیکچرر تعینات

اسلام آباد: پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواجہ سرا یونیورسٹی میں لیکچرر تعینات ،عائشہ مغل نامی خواجہ سرا نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے جینڈر اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ میں بطور لیکچرر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ خواجہ سرا معاشرے کا وہ طبقہ ہے جسے اکثر ہی حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن حال ہی میں ایک خواجہ سرا کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ معاشرے نے اس طبقے کو اپنانے کی طرف اپنے قدم بڑھانے شروع کر دئے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ٹرانس جینڈر (خواجہ سرا) کو ایک معلم ( ٹیچر ) کے فرائض انجام دینے کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، عائشہ مغل، جو کہ ایک خواجہ سرا ہے کو پاکستان کی وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ جنسی تعلیم (جینڈر اسٹڈیز) میں بحیثیت لیکچرر تعینات کیا ہے۔ ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے فرد کو کسی بھی تعلیمی ادارے میں حکومت کی طرف سے بحیثیت معلم تعینات کیا گیا ہو۔ عائشہ مغل پاکستان کی واحد خواجہ سرا ہے جو کہ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں اپنا لوہا منوانے کو بالکل تیار ہے۔ عوام نے بھی حکومت کے اس اقدام کو بھرپور سراہا ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مواقع فراہم کرنے سے ملک میں موجود تیسری جنس کی حق تلفی نہیں ہو گی اور ان کو بھی معیار زندگی بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔

First ever transgender appointed as lecturer in Quaid-i-Azam ...