اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

زار نکولس دوم کی تخت نشینی

کٹھ پتلی انتظامیہ کشمیری طلباء کو پتھراؤ پر مجبور کر رہی ہے

سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمرفاروق نے کہاہے کہ کٹھ پتلی انتظامیہ کشمیری طلباء کو پتھراؤ پر مجبور کر رہی ہے ۔ میر واعظ نے ان خیالات کا اظہار معروف کشمیری رہنماؤں میر واعظ مولوی محمد فاروق ، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کی شہادت کی برسیوں کے سلسلے میں منائے جانیوالے ہفتہ شہادت کی تقریبات کے سلسلے میں انجمن نصرۃ الاسلام کے زیر اہتمام اسلامیہ ہائیر سیکنڈری سکول راجوری کدل سرینگر میں ’’ ایک صالح سماج کی تعمیر میں طلباء کاکردار ‘‘کے عنوان سے منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں ہر جگہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طالب علموں کو اپنی سرگرمیوں کی آزادی ہوتی ہے تاہم کشمیر میں حالات اس سے مختلف ہیں، یہاں ظلم و زیادتیوں کے بل پر طلباء کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ کالجوں اور سکولوں سے باہر آکر اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کریں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان قوم و ملت کا سرمایہ ہوتے ہیں اور کسی قوم یا سماج میں بیداری یا تحرک اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتی جب تک اس قوم کا نوجوان بیدار نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ کشمیر میں سرکاری سطح پر نوجوان نسل خصوصا طلباء کی فکر اور سوچ کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔انہوں نے ایک صالح معاشرہ کی تعمیر میں طلباء کے کردار کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی انتظامیہ اور پولیس کا رویہ طلباء کے ساتھ انتہائی جارحانہ ہے۔ ان کے آزادانہ بحث و مباحثے جیسی پر امن سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے ۔میرواعظ نے کہاکہ ظلم و تشد دکی وجہ سے کشمیری نوجوان سوچ ہی نہیں پارہے کہ انہیں کون سا راستہ اختیار کرنا ہے اور وہ خود کو ایک دوراہے پر محسوس کرر ہے ہیں اور اس ظلم کے ردعمل میں وہ پتھر اٹھانے پر مجبور ہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ سیاسی، سماجی اور مذہبی سطح پر یہاں کے حالات انتہائی دگرگوں ہیں خصوصا نوجوان اور طلباء کو ہر سطح پر پابندیوں کا سامنا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کی یونینوں کو بحال کیا جائے اور ان کو اپنی پر امن سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔سیمینار میں وادی کشمیر کے معروف تعلیمی اداروں سے وابستہ طلباء اور طالبات نے موضوع کی مناسبت سے اپنے مقالات پیش کئے۔ اس موقعہ پر مجلہ نصرۃ الاسلام کا شہید ملت نمبر 2017 بھی جاری کیا گیا جس میں شہید رہنما کی زندگی اور کارناموں پر محیط سرکردہ اور نامور قلمکاروں کے مضامین اور مقالات شامل ہیں۔