اشاعت کے باوقار 30 سال

برطانوی تاریخ کے طویل ترین مقدمہ کا فیصلہ

لندن: برطانوی باشندے ایڈوین میکلارین نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر کئی افراد کو 17 ملین پائونڈ کی جائیدادوں سے محروم کر دیا ۔وہ جائیدادوں کی خرید و فروخت کا کام تو پہلے ہی کرتا تھا مگر پھر اس کی نیت خراب ہو گئی اور اس نے لوگوں کے اپنے پاس موجود کاغذات کی مدد سے ان کی جائیدادیں ہتھیانا شروع کر دیں، اس جوڑے پر برطانیہ کی تاریخ کا طویل ترین مقدمہ چلا اور کئی سال بعد بالآخر اسے جائیدادیں اصل مالکان کے سپرد کرنا پڑ گئیں۔ 52 سالہ ایڈوین میکلارین جائیدادوں کا کاروبار کرتا تھا۔ ایڈوین نے جائیدادیں ہتھیانے کے لیے لوگوں کے جعلی دستخط کرنے شروع کر دئیے۔ اس کام میں اس کی بیوی لارین بھی شریک تھی۔ یہ مقدمہ لگ بھگ 320 دن چلا۔ ہائیکورٹ نے درجنوں مرتبہ مقدمے کی سماعت کی، اب دونوں کو مجرم قراردے دیا گیا ہے۔ پولیس کے تفتیشی سپرنٹنڈنٹ اینڈی لاسن نے طوالت کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ" یہ مقدمہ انتہائی پیچیدہ اور فراڈ سے متعلق تھا۔ تفتیش میں بہت سی رکاوٹیں حائل تھیں۔ سکاٹ لینڈ میں اس قسم کے فراڈ نہیں ہوئے اس لیے بھی تفتیش سست رہی،انگلینڈ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ نہیں۔ افسران ایسے مقدمات کی تفتیش بھی کر چکے ہیں جن میں امیر آدمی کو کوڑی کوڑی کا محتاج بنا دیا گیا اور صاحب جائیداد کو بے گھر کر دیا گیا ،کچھ کے اکائونٹس خالی کر دئیے گئے لیکن یہ اپنی نوعیت کا منفرد مقدمہ تھا، ملک کے مختلف حصوں سے شواہد جمع کرنے میں 4 سال لگ گئے،17 لاکھ پائونڈ مالیت کی 24 جائیدادوں کی تمام معلومات اکٹھی کرنا آسان بات نہ تھی۔ رقوم کی منتقلی اور بنک کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لینا پڑا۔ میکلارین نے انتہائی پیچیدہ فراڈ کیا تھا۔ وہ مکان کرائے پر بھی چڑھاتا تھا اور خریدو فروخت بھی کرتا تھا۔ نیت خراب ہونے کے بعد وہ دھوکہ دہی سے دستخط کر وا لیتا تھا۔ اس طرح وہ شعبدہ بازی کے ذریعے سے لوگوں کے پیسے ہتھیاتا رہا۔ بعض کیسوں میں اس نے لوگوں کو یہ خواب بھی دکھایا اگر وہ پراپرٹی استعمال کرنے کا حق دے دیں تو وہ ان کے تمام قرضے ادا کر دے گا۔ مگر وہ قرضے کیا اتارتا۔ اس نے توجائیدادیں ہی بیچ ڈالیں۔ اس لئے یہ انتہائی پیچیدہ مقدمہ بن گیا تھا۔ تفتیش کے لئے ٹیلی مواصلات، کمپیوٹر سائنس اور مالیاتی کرائم کے ماہرین کے علاوہ لاکھوں کاغذات کا جائزہ لینے کے لئے تجزیہ کاروں کی ضرورت تھی۔ اس جوڑے نے معصوم شہریوں کو بے رحمی سے لوٹا ،ان کے لالچ کی کوئی انتہا نہ تھی۔ جائیدادوں کی ہیرا پھیری کا عرصہ بہت لمبا تھا۔ ان جائیدادوں کو ہتھیانے میں اس نے کئی سال لگائے اس لیے تفتیش میں بھی کافی وقت لگا۔ تاہم برطانیہ کی تاریخ کا طویل ترین مقدمہ 13 سال چلا۔ میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد یہ بچی کی حوالگی کا کیس تھا۔ آٹھ ججوں نے مقدمے کی سماعت کی، درجنوں سماجی ماہرین بچی کی کونسلنگ کرتے رہے۔ لیکن وہ اپنے باپ کی شکل دیکھنے پر تیار نہ تھی۔ یہی بات عدالت کے لئے مشکل بنی ہوئی تھی، وہ فیصلہ کیسے کرتی۔ بچی نے قانون سے بالکل الٹ رویہ اختیار کیا ہوا تھا مگر وہ عدالت بچی کے ساتھ زور زبردستی کرنے کے حق میں نہ تھی۔ اس لئے 13 سال گذر گئے۔ بچی ڈیڑھ سال کی تھی جب مقدمہ عدالت میں آیا اور ساڑھے 14 سال کی عمر میں درخواست خارج کر دی گئی۔

Couple in property scam found guilty after longest fraud trial
loading...