اشاعت کے باوقار 30 سال

زمین کے دور دراز جزیرے پر بھی کچرے کی بھرمار

زمین کے دور دراز جزیرے پر بھی کچرے کی بھرمار

نیوزی لینڈ: اگر آپ نیوزی لینڈ سے بحری جہاز میں 13 روز دن رات سفر کریں تو ہینڈرسن جزیرے پر پہنچیں گے جسے یونیسکو نے عالمی ورثےکی فہرست میں شامل کیا ہے جو اب تک انسانوں کے پہنچ سے دور ہے تاہم کبھی کبھار یہاں سائنسداں تحقیق کے لیے ضرور آتے ہیں لیکن اب اس جزیرے پر 18 ٹن سے زائد پلاسٹک کچرا موجود ہے جسے دیکھ کر ماہرین بھی حیران رہ گئے ہیں۔ اس انکشاف سے معلوم ہوا ہے کہ جو پلاسٹک کا کوڑا کرکٹ ہم سمندر میں ڈال رہے ہیں وہ لہروں کے دوش پر دنیا کے انتہائی دور علاقوں تک پہنچ رہا ہے۔ ایک خاتون سائنسداں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مئی 2015 میں یہاں سمندری حیات اور جانوروں کو بری حالت میں دیکھا اور انسانوں کی جانب سے پھیلائے گئے پلاسٹک کے کم سے کم لاکھوں ٹکڑے دیکھے۔ خاتون سائنسدان نے اس دور افتادہ جزیرے پر بھی پلاسٹک کا کچرا بڑی مقدار میں دریافت کیا ہے۔ اس جزیرے کے ہر مربع میٹر پر روزانہ پلاسٹک کے 27 ٹکڑے جمع ہورہے ہیں جب کہ دیگر ماہرین نے اس صورتحال کو انتہائی خوفناک قرار دیا ہے۔ سمندری حیات کے ایک ماہر نے کہا کہ سمندروں کا کوڑا کرکٹ پوری زمین کو بہت تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق 18 ٹن پلاسٹک نے اس پورے جزیرے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اندازہ ہے کہ اس وقت 5 ٹریلین ٹن پلاسکٹ کے ٹکڑے سمندروں کے دوش پر زیرِ گردش ہیں۔