اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

فرانس میں شہنشاہیت کا خاتمہ

انتخابات میں غیر ملکی مداخلت روکنا اختیار میں نہیں: برطانوی الیکٹورل کمیش

انتخابات میں غیر ملکی مداخلت روکنا اختیار میں نہیں: برطانوی الیکٹورل کمیش

لندن: برطانوی انتخابات کے ذمہ دار ادارے الیکٹورل کمیشن کا کہنا ہے کہ آٹھ جون کو ہونے والے عام انتخابات پر اثرانداز ہونے کی غیر ملکی کوششوں کو روکنے کا ان کے پاس اختیار نہیں ہے۔ الیکٹورل کمیشن کا یہ موقف ان تحفظات کے بعد سامنے آیا ہے کہ کئی غیرملکی کمپنیاں برطانوی رائے دہندگان پر سوشل میڈیا پر بھجوائے گئے پیغامات کے ذریعے اثرانداز ہونے کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ یہ کمپنیاں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا 'ایڈوانس ڈیٹا تجزیہ' کر کے ووٹرز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔ الیکٹورل کمیشن کی سربراہ کے مطابق اگر کوئی تنظیم یا شخص برطانیہ کی سرحدوں سے باہر کچھ کرتا ہے اور وہ کسی طرح بھی برطانوی دائرہ اختیار میں نہیں آتا تو ان کے قوانین اس چیز پر لاگو نہیں ہوتے۔اس سوال کے جواب میں کہ اگر برطانوی ووٹرز کو ٹارگٹ کر کے ان پر اثرانداز ہونے کی مہم کی مالی مدد میں غیر ملکی حکومتیں یا باشندے ملوث پائے گئے تو اسے روکنے کے لیے الیکٹورل کمیشن کوئی اقدامات کر سکتا ہے؟ الیکٹورل کمیشن کی سربراہ کا مؤقف تھا کہ 'نہیں، بالکل نہیں۔' غیر ملکی قوتوں کا انتخابات پر اثرانداز ہونے کا تذکرہ امریکہ اور فرانس کے صدارتی انتخابات کے دوران تواتر سے ہوتا رہا۔ امریکی انتخابات کے بعد جاری کی گئی امریکی انٹیلیجنس اداروں کی رپورٹ میں روس پر امریکی صدارتی انتخابات کی مہم پر اثرانداز ہونے کے ایسے الزامات لگائے گئے جن کی بازگشت اور اثرات آج تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ صدر ولادی میر پوتن ان الزامات کی شروع سے ہی تردید کرتے آئے ہیں کہ روس نے نومبر میں منعقدہ صدارتی انتخاب میں ہلیری کلنٹن کو نقصان پہنچاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میں مدد کی کوشش کی تھی۔ یاد رہے کہ فرانس کے حالیہ صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدوار امینیول میکخواں کی انتخابی مہم کے بہت سارے خفیہ دستاویزات کو بھی انٹرنیٹ پر شائع کر دیا گیا تھا اور ان کی انتخابی مہم کے منتظمین کا بھی کہنا تھا کہ انھیں ایک بڑے ہیکنگ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ الیکٹورل کمیشن کے مطابق انتخابات میں یہ قانون تو موجود ہے کہ یہ بتایا جائے کہ انتخابی مہم کے مواد کے لیے پیسے کہاں سے آئے لیکن سوشل میڈیا پر چلنے والی انتخابی مہم پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ باالفاظ دیگر دنیا کے کسی بھی حصے سے سوشل میڈیا کے ذریعے برطانوی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے خلاف کارروائی مشکل ہی ہے۔ کمیشن کے مطابق انہوں نے یہ سفارشات جاری کی ہیں کہ اس قانون کا اطلاق سوشل میڈیا پر بھی ہو۔