اشاعت کے باوقار 30 سال

لندن میں پی آئی اے کے طیارے سے ہیروئن بر آمد

لندن: برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے طیارے سے گذشتہ رات لندن ہیتھرو ہوائی اڈے پر ہیروئین برآمد ہوئی تھی۔ نیشنل کرائم ایجنسی کے ترجمان کے مطابق اس سلسلے میں اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے، تاہم تحقیقات جاری ہے اس سے قبل پی آئی اے کے مختلف ذرائع نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ 'پولیس نے طیارے کی تلاشی لی۔ ان کے پاس معلومات تھیں جن کی بنیاد پر انھوں نے آتے ہی طیارے کے مخصوص حصوں کی تلاشی لی۔'پی آئی اے کی پرواز پی کے 785 پیر کو اسلام آباد سے لندن پہنچی تھی جس کو 758 کے طور پر واپس لندن سے لاہور جانا تھا مگر تلاشی میں تاخیر کی وجہ سے پرواز دیر سے روانہ ہوئی۔ پی آئی اے کے اہکار کے مطابق پولیس نے عملے سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔اہلکار کا کہنا تھا کہ سکیورٹی حکام نے مختلف چیزوں کو کھول کر دیکھا اور ان کے انداز سے لگ رہا تھا کہ انھیں کسی نے مخصوص جگہوں کے بارے میں بتایا ہے جس کی سکیورٹی اور انسدادِ منشیات کے عملے کو تلاش ہے۔ یاد رہے کہ پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا تھا کہ برطانوی حکام نے ایئرلائن کے جن 13 ملازمین کو پوچھ گچھ کے لیے روکا تھا انہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ پی آئی اے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ حکام نے عملے کے پاسپورٹ واپس نہیں کئے جس کی وجہ سے وہ برطانیہ نہیں چھوڑ سکیں گے۔ تلاشی کے لیے روکا جانے والا طیارہ پی آئی اے کا بوئنگ 777 کا 240 ورژن ہے اور اس سے قبل بھی اسی طیارے سے مرمت کے دوران منشیات برآمد ہوئی تھیں۔ مرمت کے دوران جب اس طیارے کے مختلف حصے کھولے گئے تو ایک حصے میں منشیات چھپائی ہوئی ملیں۔ آٹھ گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد عملے کو جانے کی اجازت تو دے دی گئی البتہ ان کے ضبط شدہ پاسپورٹ کل تک ملنے کا امکان ہے۔

London Agency Claims Heroin Recovered From Pia Plane At Heathrow Airport