اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

زار نکولس دوم کی تخت نشینی

جسٹن ٹروڈو کے بیٹے ہاڈریئن ٹروڈو اپنے والد کے دفتر میں

جسٹن ٹروڈو کے بیٹے ہاڈریئن ٹروڈو اپنے والد کے دفتر میں

کینیڈا کے وزیر اعظم اور انٹرنیٹ دنیا کی ہر دل عزیز شخصیت جسٹن ٹروڈو نے ساری دنیا کے لیڈروں کو ایک بار پھر یہ دکھایا کہ پبلسٹی کیسے کی جاتی ہے خاص طور پر جب آپ کے اپنے گھر والے اس کا حصہ بننے والے ہوں۔ اپنے تین برس کے بیٹے کو جب وہ اپنے دفتر لائے تو اس معصوم نے سب کا دل موہ لیا۔ ویسے تو وزیر اعظم کا سرکاری کام کبھی ختم نہیں ہوتا مگر اس دن ان کی مصروفیات میں عوامی نمائندوں کے ساتھ ملاقت، پارلیمان میں سوالات کے جوابات دینے کے علاوہ یونیورسٹی کے صدور کے ساتھ ملاقاتیں شامل تھیں مگر جسٹن ٹروڈو نے ان سب مصروفیات کے باوجود اپنے بیٹے کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے کے لیے وقت نکالا۔ ننھے ہاڈریئن ٹروڈو کے لیے پورا کا پورا دفتر ہی ان کا میدان تھا۔ ماربل کی عالیشان راہداریاں اور تاریخی کمروں میں لی گئی تصاویر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی۔ وزیر اعظم اور ان کے صاحبزادے نے پریس اور سیاستدانوں کا مل کر سامنا کیا۔ اور دونوں گروہوں کے لیے سنجیدگی سے اپنا کام کرنا ذرا مشکل نظر آیا۔ فیس بک پر ایک قاری نے لکھا کہ 'قیمتی لمحہ۔۔ میں نے اپنی زندگی میں آپ کے والد (سابق وزیر اعظم پیئر ٹروڈو) اور آپ کے بچپن کی شائع ہونے والی تصویر بھی دیکھی تھی۔' ایک اور قاری نے لکھا کہ 'چاہے اسے اچھی پی آر کہیں یا نہ کہیں آپ ٹروڈو صاحب کو سوائے ایک اچھے خاندانی اقدار رکھنے والے شخص کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے' مگر ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ پینتالیس برس کے سوشل میڈیا کو خوب اچھی طرح سمجھنے والے اس سیاستدان نے عالمی پردے پر سب نظریں اپنے اوپر پائیں۔ اس آزاد خیال سیاستدان کے حامیوں نے ان کی جانب سے شامی پناہ گزینوں کا خیر مقدم کرنے، ہم جنس پرستوں کے ہمراہ مارچ کرنے اور اپنے آپ کو حقوق نسواں کا علمبردار قرار دینے پر خوب سراہا۔ صرف پچھلے ہی ہفتے کینیڈا میں پناہ حاصل کرنے والے ایک شامی خاندان نے اپنے نوزائیدہ بچے کا نام جسٹن ٹروڈو کے نام پر رکھا۔ جسٹن ٹروڈو نے ماضی میں ایک موقع پر برجستہ کوانٹم کمپیوٹنگ کے بارے میں بات کی اور ڈونلڈ ٹرمپ کو مات دی۔