عالمی معیشت پرغیر رسمی طور پر رائج حوالہ نظام کے اثرات
حوالہ نظام
نائن الیون کے واقعے کے بعد غیر رسمی انداز میں
ایک جگہ سے دوسری جگہ پیسے بھیجنے کے نظام خاص طور پر حوالہ میں بہت سے لوگوں کی
دلچسپی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی۔اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ دہشت گرد سرگرمیوں میں غیر
قانونی امداد پہنچانے میں حوالہ کا نام لیا جانے لگا۔ دوسری یہ کہ مختلف ملکوں میں
رہنے والے افراد اور خاندانوں کو آپس میں پیسے کے لین دین کے لئے ایک ایسے نظام کا
پتہ چل گیا جو اگرچہ صدیوں پرانا تھا لیکن ان لوگوں کے لئے نیا تھا۔ حوالہ کی اس
مقبولیت کا جائزہ لیتے ہوئے حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں نے حوالہ اور اس جیسے
دوسرے نظاموںکے مثبت پہلوﺅں پر سوچنا شروع کر دیا۔انہوں نے نا صرف ان کے عملی
نتائج کا جائزہ لیا بلکہ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے مناسب طرز فکر بھی اختیار کیا۔
پیسوں کی اندرون ملک اور بیرون ملک ایک جگہ سے
دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے حوالہ جیسے غیر رسمی نظام دنیا کے بہت سے حصوں میں
رائج ہیں۔ حوالہ ان سب میں زیادہ مشہور اور مجموعی طور پر زیادہ مروج نظام ہے۔ یہ
علاقائی اور ملکی مناسبت سے دنیا کے بہت سے ملکوں میں رائج ہے۔ مختلف جگہوں کے لوگ
اسے مختلف ناموں سے پکارتے ہیں۔ تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حوالہ نظام کو لفظ
حوالہ کے اصطلاحی معنوںمیں سوچا جائے جس کا مطلب کوئی ایسی چیز ہے جو ایک سرے سے
دوسرے سرے کو ملا دے۔ حائل اسی شاخ کا ایک دوسرا لفظ ہے جس کا مطلب کوئی ایسی چیز
ہے جو نہ صرف دو چیزوں میں واقع ہوتی ہے بلکہ ان کے درمیان رابطے یا کسی اور چیز
کو منتقل کرنے کا کام بھی دیتی ہے۔
مندرجہ بالا تعریف کی رو سے حوالہ پیسے کو ایک
جگہ سے دوسرے جگہ منتقل کرنے کا ایک ایسا نظام ہے جو جگہ اور پیسے کی نوعیت سے علیحدہ
صرف پیسے کو منتقل کرنے پر مرکوز اور مبنی ہے۔ اس نظام کی خدمات پیش کرنے والے آدمی
کو حوالہ دار کہتے ہیں جو اس بات سے غرض نہیں رکھتا کہ پیسے جائز ہیں یا ناجائز ،
ملک دوست کا ہے یا دشمن کا۔ اس حقیقت سے قطع نظر کہ حوالہ انتقال عام طور پر کسی
دوسرے ملک میں کمانے یا کاروبار کی غرض سے گئے ہوئے آدمی کے ہاتھوں انجام پاتا ہے
، حوالہ اپنے ہی ملک میں پیسے کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ منتقل کرنے کے لئے بھی
استعمال ہوتا ہے ، چاہے پیسے کے اس انتقال کے مقاصد کچھ بھی ہوں۔
حوالہ نظام چلتا کس طرح ہے؟
فرض کریں ملک ’ا‘ کا کوئی گاہک ’ا‘ دوسرے کسی
ملک ’ب‘ کے گاہک ’ب‘ کو کچھ پیسے بھیجنا چاہتا ہے۔ ملک ’ا‘ کا حوالہ دار ’ا‘ گاہک
’ا‘ سے پیسے پکڑتا ہے جو گاہک ’ا‘ کے ملک کی کرنسی میں ہیں۔ حوالہ دار ’ا‘ گاہک
’ا‘ کو تصدیق اور تسلی کے لئے ایک خفیہ نمبر یا کوڈ دیتا ہے۔ یہ حوالہ دار ’ا‘ کسی
دوسرے ملک ’ب‘ جہاں کہ پیسے پہنچنے ہوتے ہیں ، میں اپنے آدمی یعنی حوالہ دار ’ب‘
کو ہدایات جاری کرتا ہے کہ وہ گاہک ’ب‘ جس کو کہ گاہک ’ا‘ نے پیسے بھیجے ہیں ، کو
اس کے اپنے ملک کی کرنسی میں اس بھیجے گئے پیسوں کے برابر پیسے دے دے۔ گاہک ’ب‘ کو
پیسے لینے سے پہلے وہ خفیہ نمبر یا کوڈ بتانا پڑتا ہے جو کی گاہک ’ا‘ نے اپنے طور
پر گاہک ’ب‘ کو بتا یا ہوتا ہے۔ حوالہ دار ’ا‘ یہ سارا کام کروانے کے گاہک ’ا‘ سے
کچھ طے شدہ پیسے یا مقررہ معاوضہ لیتا ہے اور حوالہ دار ’ب‘ سے لے کرگاہک ’ب‘ تک پیسے
پہنچانے کی تمام ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ حوالہ دار ’ا‘ اور حوالہ دار ’ب‘ کی حیثیت
یا تو پیسے کے حساب سے طے ہوتی ہے یا چیزوں کے حساب سے۔ مزید یہ کہ ان کی حیثیتیں
دوسرے حوالہ داروں کو بھی سونپی جا سکتی ہیںجو بشمول ابتدائی کاروائیوںکے بین
الاقوامی سطح پر کام کرتے ہیں۔ حوالہ دار ’ا‘ اور حوالہ دار ’ب‘ کی حیثیتیں جو
ابتدائی مرحلے میں طے پائی تھیں ، چیزوں کی درآمدات یا حوالہ برعکس سے بھی پوری کی
جا سکتی ہیں۔ حوالہ برعکس نوعیت کی منتقلی اکثریا تو کسی کام میں پیسہ لگانے کی
صورت میں کی جاتی ہے یا ملک ’ب ‘ میں سفر ، طب اور تعلیم وغیرہ کے اخراجات پورے
کرنے کی صورت میں۔ ایک ایسا ملک جو کسی غیر ملکی کرنسی کے دباﺅ میں آیا ہو یا سرمایہ
داری قوتوں کے ہاتھ میں، کوئی گاہک ’ب‘ جوکسی دوسرے ملک میں پڑھنے والے اپنے بچے کی
فیسیںبھیجنا چاہتا ہے،مقامی کرنسی حوالہ دار ’ب‘ کو تھماتا ہے اور درخواست کرتا ہے
کہ اتنی ہی رقم دوسرے ملک کی کرنسی میں (جہاں کہ اس کا بیٹا پڑھتا ہے)،اسے کے بیٹے
(گاہک ’ا‘ ) کو دے دی جائے۔رقم کی اس منتقلی کو شروع کرنے والے دونوں گاہکوں کو اس
کا علم نہیں ہے کہ جس طریقے سے وہ رقم بھیج رہے ہیں اس کا نام حوالہ یا حوالہ
برعکس ہے۔ اگر حوالہ دار ’ب‘ کا کوئی حوالہ دار ’ا‘ اس ملک میں موجود ہوگا جہاں کہ
گاہک ’ا‘ کو پیسے بھیجنے ہیں تو وہ اسے سیدھا کہ دے گا کہ وہ گاہک ’ا‘ کو اتنے پیسے
دے دے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو وہ کسی اور ملک میں موجود اپنے حوالہ دار کو کہے گا کہ
وہ اس میں کہ جہاں پیسے بھیجنے ہیں کسی کام کرنے والے حوالہ دار کو یہ کام سونپ
دے۔ اکثر دوسرے یا تیسرے تعلق پر کوئی نہ کوئی حوالہ دار مل ہی جاتا ہے۔حوالہ
برعکس منتقلی میں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ حوالہ منتقلی والے حوالہ دار ہی موجود
ہوں۔ حوالہ دار کوئی بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ پیسوں کی یہ ساری منتقلی
درآمدات کی مد میں بھی ہو سکتی ہے اور برآمدات کی مد میں بھی۔ مثلاً ہو سکتا ہے
حوالہ دار ’ا‘ حوالہ دار ’ب‘ کی برآمدات میں کچھ مدد کرکے اس کے کچھ قرضے چکانا
چاہتا ہو۔
حوالہ کا نظام شروع کس طرح ہوا؟
شروع شروع میں حوالہ کا نظام تجارتی لین دین میں
استعمال ہوتا تھا۔اس نظام کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ سوناچاندی اور دوسری قیمتی
اشیاءکے ساتھ سفر کرنا لٹیروں کے خوف سے خالی نہیں تھا۔حوالہ بطور مقامی نظام تو چین
اور ایشیاءکے دوسرے حصوں میں رائج ہی تھا ، وقت کی ضرورت کے تحت بطور بین الاقوامی
نظام بھی رائج ہوتا چلا گیا۔ حوالہ کو ہر ملک اور معاشرے میں مختلف نام سے پکارا
جاتا تھا۔ چین میں اسے فائی چیان اور فلپائن میں پادالا کہا جاتا تھا۔ ہندوستان میں
ہنڈی اور تھائی لینڈ میں فائی کوان کہتے تھے۔ آج حوالہ پوری دنیا میں رائج ہے لیکن
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کی ابتداءایشیاءاور مشرق وسطیٰ سے ہوئی تھی۔موجودہ
دور میں اس کو استعمال کرنے والے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو یورپی ملکوں یا خلیجی ریاستوں
میں جابسے ہیں۔وہ وہاں کام کرتے ہیں اور تیسری دنیا میں اپنے ماں باپ یا گھر والوں
کو پیسے بھیجتے ہیں۔ ان لوگوں نے اس پرانے نظام کی اہمیت اور افادیت کو بہت بڑھا دیا
ہے۔ اگرچہ حوالہ کو قانونی حیثیت حاصل ہے لیکن اس کی گمنامی اور تحریری کاروائی کی
کم کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے غیر قانونی لین دین میں بھی استعمال کرتے ہیں۔
معاشی اور ثقافتی اعتبار سے دیکھا جائے تو حوالہ
کا نظام کم خرچ ، زیادہ تیز، زیادہ قابل یقین، زیادہ سہل اور آسان، اور حکومتی سطح
پر مروج نظام سے کم مداخلت پذیر محسوس ہوتا ہے۔ حوالہ دار کا معاوضہ بینک کے
معاوضوں سے بہت کم ہوتا ہے۔ بعض دفعہ اپنے نظام کی ترویج کے لئے حوالہ دار چھوٹے
گاہکوں سے فیس بالکل ہی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ ان لوگوں سے زیادہ
معاوضے لے لیتے ہیں جو حکومتی کٹوتی سے بچنے کے لئے حوالہ استعمال کرتے ہیں۔ آج کل
حوالہ دار فون ، ایمیل وغیرہ سے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں اور اکثر چوبیس گھنٹے
کے اندر اندر پیسے ایک گاہک سے دوسرے گاہک تک پہنچ جاتے ہیں چاہے وہ ایک دوسرے سے
کتنا ہی دور کیوں نہ رہتے ہوں۔ کم سے کم تحریری کاروائی اور سادہ سے طریقہ کار کی
وجہ سے حوالہ پیسوں کی منتقلی کا کام بہت کم وقت میں کرتا ہے۔ تمام تر لسانی ،
مذہبی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود حوالہ دار اپنے ذاتی تعلق کی بنا پر اس نظام
کو انتہائی کارآمد بنا دیتے ہیں۔ اپنے گاہکوں کو سہولت دینے کی غرض سے گاہک ’ا‘ سے
پیسے لئے بغیر ، صرف اس کی درخواست پر کہ وہ فلاں ملک میں رہنے والے گاہک ’ب‘ کو
اتنے پیسے بھیج دے ، حوالہ دار ’ا‘ کسی دوسرے ملک میں کام کرنے والے اپنے حوالہ دار
’ب‘ کو مجوزہ گاہک ’ب‘ کو پیسے دینے کا کہہ دیتا ہے۔ کیونکہ پیسے بھیجنے والے زیادہ
تر لوگ اپنے گھر والوں یا بیوی بچوں کو قانونی کاروائیوں سے بچانے کی فکر میں ہوتے
ہیں اور ان کے خیال میں وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ بینکوں کے مطابق چل سکیں، باہمی
اعتبار اور بغیر کسی کاغذی کاروائی کے عمل میں آنے والا یہ نظام انہیں ضرورت سے زیادہ
مددگار ثابت ہوتا ہے۔
معاشیات پر اثرات
حوالہ
نظام چاہے کتنا ہی غیر رسمی کیوں نہ ہو، چاہے کتنا ہی خودمختار کیوں نہ ہو، کسی
ملک کی معیشت پر اس کے بلاواسطہ یا بالواسطہ اثرات مرتب ہونا لازمی امر ہے۔ چاہے پیسے
کسی ملک میں جا رہے ہوں یا کسی ملک میں آ رہے ہوںحوالہ قوم کی معیشت پر اثر انداز
ضرور ہوتا ہے۔ کیونکہ پیسے یہ منتقلی کاغذات میں نہیں آتی اس لئے نہ تو اس ملک کے
ریکارڈ میں جہاں سے پیسے بھیجے جارہے ہیں اور نہ اس ملک کے ریکارڈ میں جہاں پیسے
بھیجے گئے ہیں ، کوئی ثبوت یا شہادت نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوت خرید
متاثر ہوتی ہے اور دونوں ملکوں کی معیشت غیر یقینی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اگرچہ
حوالہ دار بینک اکاؤنٹ استعمال کرتے ہیں لیکن عام طور پر اس طرح کی منتقلی نقد کی
صورت میں واقع ہوتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک سے جو افراد حوالہ کے ذریعے رقم باہر بھیجتے
ہیں وہ عموماً غریب ہوتے ہیں۔جب وہ اپنے بینک اکاؤنٹ سے رقم نکلوا کر اپنے مقامی
حوالہ دار کو کیش کی صورت میں دیتے ہیں تو ملک میں کیش کی افراط پیدا ہوتی ہے جس
سے قوت خرید متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
علاوہ ازیں حوالہ کے ذریعے درآمد یا برآمد کی
جانے والی رقم پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لگ پاتااور حکومت کو نقصان اٹھانا
پڑتا ہے۔ حوالہ نظام کے ذریعے منتقل ہونے والے پیسوں کا صحیح اندازہ لگانا تو مشکل
ہے ، لیکن اتنا کہا جا سکتا ہے کہ بعض دفعہ حکومتی کاغذات میں پیسوں کی اتنی منتقلی
نہیں ہوتی جتنی حوالہ نظام کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں حکومتوں کا کمزور ہونا
ایک یقینی سی بات ہے۔