مٹھی
(اردو ٹائمز) گرمی کے موسم میں حشرات الارض کی تعداد میں اضافہ تو معمول کی بات ہے
لیکن صحرائے تھر میں گرمی کی شدت اور بارش نہ ہونے کی وجہ سے زہریلے سانپ اور
حشرات کی تعداد میں معمول سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ماہ
سے گاؤں حالتھوروسیٹھا میں زہریلے سانپ پیسئن بلا نے لوگوں کی راتوں کی نیند اور
دن کا چین حرام کر دیا ہے۔ اس گاؤں میں بہت سارے لوگوں کی زندگی زہریلے سانپوں کی وجہ سے موت کے اندھیرے میں ڈوب
گئی ہے۔ اس ضمن میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ ماہ میں ایک 6 ماہ کے بچے کو
جھولے میں سانپ نے ڈس لیا جس سے وہ جاں بحق وہ گیا، ایک 30 سالہ ٹھاکر عورت بنام
کرنا سانپ کے ڈسنے سے اپنی دونوں آنکھوں کی روشنی سے محروم ہو گئی۔ ان واقعات کو
پیش نظر رکھتے ہوئے رات کو 6 زہریلے سانپوں کو سرچ لائٹ کی مدد سے ڈھونڈ کر مار
دیا گیا ہے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ ان زہریلے سانپوں کے بارے
میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ویکسین صرف عام سانپوں کے زہر پر اثر انداز ہوتی ہے
لیکن پیسئن بلا کا زہر تشخیص نہیں ہو سکا اس لیے ڈاکٹروں کے پاس اس کا کوئی علاج
نہیں ہے۔ تاہم ڈاکٹر اس زہریلے سانپ کے زہر کی تشخیص اور اس کے علاج کی پوری کوشش
کر رہے ہیں۔ جون سے جولائی کے آدھے ماہ کے درمیان 17 کیس ان سانپوں کے ڈسنے کے آئے اس طرح ڈیپلو میں
بھی 10 افارد زخمی آئے تھے تاہم وہ اب تک صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔