بے نظیر کو ہٹانےمیں آصف زرداری استعمال ہوا:ممتاز بھٹو
امریکا کی سرپرستی میں پرویز مشرف اور شہید بے نظیر کے درمیان معاہدہ ہوا تھا لیکن جب بے نظیر پاکستان آئیں اور ملک کے عوام کا رخ اپنی طرف دیکھا تو امریکا کی سرپرستی میں ہونے والی مشرف سے کی ہوئی ڈیل سے پیچھے ہٹ گئیں:ممتاز بھٹو
کراچی
(این این آئی) سندھ نیشنل فرنٹ کے چیئرمین سردار ممتاز علی بھٹو نے اپنی رہائش گاہ
پر ملاقات کرنے والے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی سرپرستی میں
پرویز مشرف اور شہید بے نظیر کے درمیان معاہدہ ہوا تھا لیکن جب بے نظیر پاکستان آئیں
اور ملک کے عوام کا رخ اپنی طرف دیکھا تو امریکا کی سرپرستی میں ہونے والی مشرف سے
کی ہوئی ڈیل سے پیچھے ہٹ گئیں جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان
کے گھر پہنچ کر انہوں نے عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں اقتدار میں آکر چیف جسٹس
کے گھر پر جھنڈا لگاﺅں گی ۔ اس کے بعد پھر غیر ملکی ایجنسیوں نے آصف زرداری جو جیل
کی نظر بندی کے دور سے ہی ان غیر ملکی ایجنسیوں سے رابطے میں تھا جس کا پتہ شہید
بے نظیر کو لگا جس پر شہید بے نظیر نے آصف زرداری پر نہ صرف سیاست پر پابندی لگادی
بلکہ پارٹی اور اپنے آپ کو بھی اس سے دور رکھا اور بات آخر کار طلاق تک جاپہنچی تھی پھر بے نظیر کو راستے سے ہٹانے کے لئے غیر ملکی ایجنسیوں نے
آصف زرداری کو استعمال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر کے قتل کی تحقیقات اقوام
متحدہ سے کروانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں ہے جو
کسی کے قتل کی تحقیقات کرے ۔ حکمرانوں کی طرف سے اقوام متحدہ کو درخواست دینا صرف
اور صرف بے نظیر کے خون سے اپنی جان چھڑوانا ہے ۔ لیکن ہم بے نظیر کے خون کو مرتضیٰ
بھٹو کے خون کی طرح ہضم نہیں ہونے دیں گے اور ان کے قاتلوں کو انجام تک پہنچانے کے
لئے ہر ممکن کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہید بے نظیر کے قتل کی تحقیقات کی
نگرانی میرے حوالے کی جائے تو صرف کم وقت میں چار سے پانچ افراد کے گلے میں ہاتھ
ڈالوں گا اور شہید بے نظیر کے قاتلوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرکے ان کو انجام
تک پہنچادوں گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سب سے بڑی افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ بے نظیر
کے قتل پر مگر مچھ کے آنسو بہاکر اقتدار حاصل کرنے والوں نے ان کے قاتلوں کو
گرفتار کرنا تو دور کی بات اس کے قتل کی ایف آئی آر بھی 9ماہ کے دور اقتدار میںمقامی
تھانے میں بھی درج نہیں کرواسکے ہیں جو کہ شہید کے خون سے بہت بڑا دھوکہ اور غداری
ہے انہوں نے کہا کہ خوامخواہ میں طالبانائزیشن کا واویلا کیا جارہا ہے جبکہ کراچی
میں کوئی طالبانائزیشن نہیں ہورہی ہے بلکہ طالبانائزیشن کا واویلا مچا کر کوئی بہت
بڑی سازش تیار ہورہی ہے ۔ ممتاز بھٹو نے کہا کہ ” پلاﺅ پولٹیکس “ کا خاتمہ ہونا
چاہئے جو مفاد پرست جماعتیں کل مشرف کے ساتھ تھین وہی آج آصف زرداری کی پارٹنر بنی
ہوئی ہیں مشرف اور زرداری کے اقتدار میں کوئی فرق نہیں ہے موجودہ حکمرانوں نے تو
قوم کے جرم پر پرویز مشرف کو بھی تحفظ فراہم کیا ہے جس سے یہ اس سے بڑے مجرم ہوگئے
ہیں ۔