حملوں کے حوالے سے امریکہ سے کوئی خفیہ معاہدہ نہیں ہوا،اسمبلی میں خطاب
اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی
نے امید ظاہر کی ہے کہ نو منتخب امریکی صدر بارک اوباما کے مسنداقتدار سنبھالنے کے
بعد پاکستان میں امریکی میزائل حملے بند ہوجائیں گے ان حملوں کے حوالے سے امریکہ
کے ساتھ ہمارا کوئی خفیہ معاہدہ نہیں ہے جمعرات کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن جمعیت
علمائے اسلام ف مسلم لیگ ق اورفاٹا کے ارکان کی طرف سے امریکی حملوں سے متعلق نکتہ
اعتراض کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ قائد حزب اختلاف سمیت دیگر ارکان نے امریکی
میزائل حملوں پر تحفظات کااظہار کیا ہے پاکستان کی تاریخ میں پارلیمنٹ نے قومی
سلامتی پر جو متفقہ قرارداد منظور کی ہے وہ اہم ہے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی
علاقوں میں امریکی حملوں کے حوالے سے کوئی انڈرسٹینڈنگ نہیں ہے اگر سابق صدرمشرف
کے دورمیں کوئی ایسی انڈر سٹیڈنگ ہوئی ہوتو اس کا حکومت یاوزارت خارجہ کے پاس کوئی
ریکارڈ نہیں مشرف نے ون مین شو کے طورپر فیصلے کیے اورپارلیمنٹ کو کبھی اعتمادمیں
نہیں لیا وزیراعظم نے کہاکہ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور اس لیے
تمام امور کو پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہیں پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن میں ارکان کو
دہشت گردی اور قومی سلامتی کے حوالے سے تمام امور سے آگاہ کیا گیا وزیراعظم نے کہا
کہ پاکستانی فوج جمہوریت پسند ہے وہ ڈکٹیٹر شپ کو سپورٹ نہیں کرتی پاک فوج انتہائی
تربیت یافتہ ہے اور وہ جمہوریت کی حمایت میں پیش پیش ہے وزیراعظم نے کہا کہ ہم ذمہ
دار قوم ہیں امریکی حملوں نے ہماری مشکلات میں اضافہ کیا ہے ہم نے ہر فورم پر ان
امریکی حملوں کی مذمت کی ہے وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت امریکی حکومت تبدیلی کے عمل
سے گزررہی ہے میراخیال ہے کہ اس کی وجہ سے ایسے اقدامات ہورہے ہیں ہمیں امید ہے کہ
سینٹر اوباما کے مسند اقتدار سنھبالنے کے بعد یہ حملے بند ہوجائیں گے وزیراعظم نے
کہا کہ حکومت اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلے گی ہم ملکی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی
آنچ نہیں آنے دیں گے وزیراعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر اسد درانی اپنے امریکی
ہم منصب کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے وہ بات چیت کرتے رہتے ہیں
ہم نے امریکی حکام پر واضح کیا ہے کہ یہ حملے ناقابل برداشت ہیں اور ہم ان کی مذمت
کرتے ہیں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حدود کے اندر حملوں کے بارے میں نیٹو کے
ممالک بھی ہمارے موقف کے پرزورحامی ہیں ان ملکوں کا بھی موقف ہے کہ یہ حملے نقصان
دہ ثابت ہورہے ہیں اس سلسلے میں امریکی پالیسی تبدیل ہونی چاہیے