|
اردو ٹائمز(نیوز) مسلم لیگ ن کے حکومتی خارجہ پالیسی پر شدید تحفظات ہیں ہمیں ایک جانب بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان بلوچستان میں عدم استحکام انتشار پیدا کر رہا ہے دوسری جانب آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے ہمارے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا ایک طرف بھارت ہمارا پانی بند کر کے ملک کی زرعی معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف محمود علی درانی ہندوستان سے خیرسگالی کی بات کرتے ہیں ایک طرف امریکہ مسلسل ہم پر بمباری کا مرتکب ہو رہا ہے اور دوسری جانب صدر زرداری کا موقف ہے کہ صدر بش کی پالیسی دنیا کو محفوظ بنانے کیلئے ہے۔ بدقسمتی سے آج اس ناقص پالیسی کے باعث پاکستان کی آزادی اور خودمختاری داﺅ پر لگی ہوئی ہے اس پر نظرثانی کے بغیر ہم پاکستانی کو محفوظ اور دنیا میں اسکا وقار بحال نہیں کر سکتے۔ ان خیالات کا اظہار قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر چودھری نثار علی خان نے کیا۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ کو دی جانے والی ان کیمرہ بریفنگ مکمل طور پر ملٹری آپریشن تک محدود تھی لیکن اس میں نہ پالیسی ڈسکس ہوئی نہ اقدامات یہ ہماری نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے بلکہ تضاد ہے حکومت کو چاہئے تھا کہ یہ بتائے کہ پالیسی کیا ہے ہم کیا کرنے جا رہے ہیں اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ چودھری نثار علی خان نے واضح کیا کہ بدقسمتی سے گزشتہ 8 سال سے جاری خارجہ پالیسی نے ہمیں سرخرو کرنے کی بجائے دلدل میں پھنسا کر رکھ دیا ہے اور ہم باہر نکلنے کی بجائے دھنستے چلے جا رہے ہیں ہم ایک آزاد اور خود مختار قوم اور ملک میں ہےں ہمیں ڈکٹیشنز کا پابند کیوں کیا جا رہا ہے۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ کو باور کرایا جائے کہ دوستی تعلقات اپنی جگہ لیکن باہمی عزت و احترام کیلئے خودمختاری کا احترام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز خود امریکہ کے افغانستان پر حملے کے بعد ہوا یہ جنگ خود امریکہ نے شروع کی اور ہمیں اس کی حمایت میں نوازنا پڑا۔ ہمارے حکمران ان کے تابع فرمان بن گئے اور ان کی جانب سے اختیار کی جانے والی پالیسی خود ہمارے لئے خطرہ بن گئی اور اب ہم اس صورتحال سے دوچار ہیں کہ خود دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں اور ہمارے معصوم بچے اور لوگ اس جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں اس ساری جنگ و جدل اور قتل و غارت سے نکلنے کیلئے خود نیٹو افواج فرانس اور برطانیہ چیخ رہا ہے کہ بیٹھ کر مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے اور کوئی حل نکالا جائے لیکن ہم طاقت کی زبان استعمال کر کے خود اپنے لئے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ چودھری نثار علی خان نے امریکن فوج کے سربراہ جنرل مولن کی جانب سے افغانستان میں ہندوستان یا ہندوستان فوج کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر منطقی غیر قانونی اور ناقابل عمل ہے۔ کس نے اس کی تجویز دی اور کیونکر یہ تجویز آئی۔ دو آزاد اور خودمختار ممالک کی سرحدوں پر کسی تیسرے ملک کی فوج کا کیا جواز؟ کس کے مینڈیٹ سے ایسا ہوگا۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے اور سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کس نے اس کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ ہاں ہمارے حکومتی خارجہ پالیسی پر شدید تحفظات ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری آزادی اور خودمختاری داﺅ پر لگی ہوئی ہے۔ اس آٹھ سالہ خارجہ پالیسی نے ہمارے مسائل میں اضافہ کیا‘ ہمیں مشکلات میں پھنسایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سے دوستی اور احترام کا رشتہ اپنی جگہ لیکن ہمیں اپنی آزادی و خودمختاری کو بروئے کار لاتے ہوئے چین‘ ایران‘ ترکی‘ سعودی عرب کی طرف دیکھنا چاہئے۔ یہ ہمارے حقیقی اور فطری دوست ہیں۔ ہم ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے تو خود ہم میں اعتماد آئیگا‘ ہم دنیا میں سرخرو ہوں گے‘ ہمارے مسائل حل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں خارجہ پالیسی کی بنیاد کسی کے مفادات کو نہیں‘ بلکہ اپنے مفادات کو بنانا چاہئے۔ فیصلے مسلط کرنے کی بجائے باہمی مشاورت سے پالیسیاں ترتیب دینی چاہئیں۔ کسی کے مفادات کی بجائے اپنے امن و استحکام کو ترجیح دینا چاہئے تب ہم خود اپنے عوام اور خدا کے سامنے سرخرو ہوسکتے ہیں۔
|
|