|
اردو ٹائمز(نیوز) پاکستان اکانومی واچ کے سیکریٹری جنرل مرزا ریاض نے کہا ہے کہ پاکستان میںسنگین مالی بحران کا اندیشہ ہے ،ملک کو دیوالیہ کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں جس میںبعض بینک بیرونی اشاروں پر عملدرآمد کرتے ہوئے کام کر رہے ہیں جبکہ ان اداروں کی کڑی نگرانی کے ساتھ ساتھ حکومت تمام بینکوں میں فی ا لفور بااختیار آڈیٹرز مستقل طور پرتعینات کرے۔ حالیہ صورتحال کے تناظر میں اتوار کے روزایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کی حکومتی کوششوں کو بعض بینک ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور یہ اس وقت تک مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکتیںجب تک حکومت تمام معاملات اپنے ہاتھ میں نہ لے اور بینکنگ سسٹم میں شفافیت نہیں لائی جاتی جبکہ بینکوں کو کھلی چھٹی دینا کسی بھی عالمی سازش کو کامیاب کرنے کے مترادف ہے۔اکثر بینک کھاتہ داروں کو نہ صرف لوٹ رہے ہیں بلکہ بیرون ملک سرمایہ منتقل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور ایک مافیا کی صورت میں اربوںڈالر باہر منتقل کر کے پاکستان کو برباد کرنے کی مزموم سازش کر رہے ہیںجبکہ بینکوں کے معاملات پر نظر رکھنے کے لئے جز وقتی نہیں بلکہ کل وقتی ماہرین تعینات کئے جائیں جو اکاونٹس، قرضوں ، تمام پراڈکٹس اور بینکوں کی اندرون و بیرون سرمایہ کاری اور ہائی رسک انوسٹمنٹ پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کو بروقت ٹالا جا سکے۔ مرزا ریاض کے مطابق بینکوں ، بلڈرز اور بعض بیرون ملک سرمایہ کاری کرانے والی کمپنیوں کی مافیاہر ماہ کروڑوں ڈالر باہر منتقل کر رہی ہے۔ اس موقع پر صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ حساس اداروں کو بھی بینکوں پر نظر رکھنے کی ہدایت کی جائے،گر متحدہ عرب امارات اور ملیشیاءجیسے دوست ممالک ضرورت کی اس گھڑی میں ہماری مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم پاکستان سے ڈالروں کی آمدپر پابندی عائد کر کے دوستی کا حق تو ادا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیںجبکہ پاکستان حالت جنگ میں ہے اور اس وقت ہم فری مارکیٹ اکانومی اور ڈی ریگولیشن جیسے دلفریب نعروں کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔
|
|