|
اردو ٹائمز(نیوز)بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے مقبوضہ کشمیر میں پہلی باقاعدہ ٹرین سروس کا افتتاح کردیا ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں دوسرے روز بھی ہڑتال کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران وادی بھر میں سول کرفیو رہا۔ بھارتی فوج نے مزید دو افراد کو شہید کردیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے مقبوضہ کشمیر میں پہلی باقاعدہ ٹرین سروس کا افتتاح کردیا ہے۔ اس موقع پر سرینگر میں سخت ترین سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے۔ افتتاحی تقریب میں سونیا گاندھی‘ وزیر ریلوے لالو پرشاد یادیو بھی موجود تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ ہمارا مقصد کشمیر کو سماجی‘ معاشی اور سیاسی لحاظ سے مضبوط بنانا ہے۔ دوسری جانب منموہن سنگھ کے دورے کے خلاف ہفتہ کے روز بھی وادی بھر میں مکمل ہڑتال رہی۔ تمام کاروباری و تجارتی مراکز تعلیمی ادارے، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی جس سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔ اس دوران رابطہ کمیٹی کی اپیل پر وادی بھر میں سول کرفیو رہا ۔ جس کے دوران لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلے اور گھروں کے اندر رہ کر بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے خلاف احتجاج بلند کیا گیا۔ وادی بھر میں فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ اس دوران مختلف مقامات پر سینئر حریت رہنماﺅں سید علی گیلانی میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک، مولوی شوکت احمد اور دیگر نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ سید علی گیلانی نے مظاہرین سے خطاب اور پریس کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے دو طرفہ سہ فریقی مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے مذاکرات کےلئے نہیں حق خود ارادیت کے حصول کےلئے مینڈیٹ دے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قیادت کے پاس یہ سنہری موقع ہے کیونکہ ہمیں لاکھوں لوگوں کی حمایت حاصل ہے حتی کہ بھارت کے لوگ بھی ہمارے حق خود ارادیت کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سول کرفیو سے کشمیریوں نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ سینئر حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارتی وزیر اعظم کے دورے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم مموہن سنگھ کو حقیقی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ صرف نیشنل کانفرنس پی ڈی پی اور کانگریس کے ساتھ مذاکرات سے مقاصد حل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی صرف سہ فریقی مذاکرات سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اب گیند بھارت کے کورٹ میں ہے فیصلہ اسے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے خلاف نہیں تاہم یہ مذاکرات نتیجہ خیز ہونا چاہئے۔ میر واعظ نے اعلان کیا کہ وہ چودہ اکتوبر کو نئی دہلی مسلمانوں کی ایک کانفرنس میں شرکت کریں گے جس میں وہ بھارت میں مقیم مسلمانوں کےساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں کشمیری عوام کو درپیش مصائب سے آ گاہ کریں گے۔ ادھر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک ملک نے مائسمچوک میں ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ پر زور دیا کہ وہ بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے وعدے کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیں۔ کھیلن پلوامہ میں بھارتی فورسز اور مجاہدےن کے درمیان جھڑپ میں لشکر طیبہ کے دو مجاہدےن شہےد جبکہ ایک رہائشی مکان مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا۔ ادھر پولیس اور فوج نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران ہندوارہ کے گھنے جنگل میں لشکر طیبہ کے ایک خفیہ ٹھکانے سے اسلحہ و گولہ باروداور غذائی اجناس کی بھاری مقدار برآمد کرنے کے بعد اسے دھماکے سے اڑا دیا۔
|
|