اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Sat, 11 Oct 2008 08:31:00

جی ایٹ نے مالیاتی بحران کیلئے ایکشن پلان کا اعلان کردیا

جی ایٹ نے مالیاتی بحران کیلئے ایکشن پلان کا اعلان کردیا

اردو ٹائمز(نیوز) دنیا کے سات ترقی یافتہ ممالک کے وزراءخزانہ نے موجودہ عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے پانچ نکاتی ایکشن پلان کا اعلان کردیا ہے دوسری جانب مالیاتی بحران کیخلاف لندن میںسینکڑوں افراد نے بینک آف انگلینڈ کے سامنے مظاہرہ کیا ہے واشنگٹن میں ہونے والے جی سیون ملکوں کے وزراء خزانہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال ہنگامی اور غیر معمولی اقدامات کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بحران کے حل کے ہر ممکنہ طریقہ استعمال اور فیصلہ کن اقدام کرینگے جی سیون ملکوں میں امریکہ، جاپان، برطانیہ ، جرمنی، فرانس، اٹلی اورکینیڈا شامل ہیں۔ انہوں نے بینکوں اورمالیاتی اداروں کو بچانے کے لیے سرکاری اورنجی ذرائع سے مالی وسائل مہیا کرنے کا عزم کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق جی سیون کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں تفصیل نہیں دی گئی اور اب یہ مختلف حکومتوں پر منحصر ہے کہ وہ کس قدر اپنے منصوبوں کو آگے لے کر چلتی ہیں۔ اجلاس کے بعد امریکہ کہ وزیر خزانہ ہینری پالسن نے کہا کہ بش انتظامیہ اب مالیاتی اداروں کے حصص خریدنے کے اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کرےگی۔ ہینری پالسن نے کہا کہ بش انتظامیہ حصص بازاروں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے پراپنی توجہ مرکوز کیلئے ہوئے ہیں ہینری پالسن نے کہا کہ امریکہ‘ چین اور جاپان دونوں کے مستقل رابطے میں ہے کیونکہ ان دونوں ممالک کے پاس بہت بڑی تعداد میں امریکہ کے ٹریژری بانڈ ہیں دنیا بھر میں جاری مالیاتی بحران کیخلاف لندن میں سینکڑوں لوگوں نے بینک آف انگلینڈ کے سامنے مظاہرہ کیا برطانیہ کے سرکاری بینک آف انگلینڈ کے سامنے جمع ہونے والے مظاہرین عالمی مالیاتی بحران کیخلاف احتجاج کررہے تھے۔ اس موقع پر مظاہرین نے لندن کی تاریخی رائل ایکسچینج بلڈنگ میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں ایسا کرنے سے باز رکھا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جی سیون کے تمام ممالک فنانشل مارکیٹ کے استحکام ، لیکوڈیٹی کی بحالی اور عالمی مالیاتی ترقی کے لیے مل کر کام کریں گے۔ گروپ سیون ممالک نے اس امر پر اتفاق کیا ہے۔ ادھر صدر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت موجودہ عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے اور حصص بازاروں میں کاروبار کو مستحکم کرنے کے لیے ’جارحانہ‘ اقدامات کر رہی ہے۔وائٹ ہاو¿س کے لان سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ عالمی منڈیوں اور حصص بازاروں میں اتارو چھڑاو¿ سرمایہ کاروں میں پائے جانے والے خدشات اور بے یقنی کی وجہ سے ہے۔ امریکی بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بحران سے نکالنے کے لیے منظور کئے جانے والے 700 ارب ڈالر کے اپنے منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ یہ منصوبہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔ صدر بش نے یہ خطاب ایک ایسے وقت کیا ہے جب مختلف حکومتوں کی طرف سے شرح سود میں کٹوتی اور بینکوں کے لیے سرمائے کی فراہمی کے باوجود عالمی حصص بازاروں میں پائی جانے والی مندی کے رجحان کو ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔ صدر بش نے اپنے خطاب میں کسی نئے اقدام کا اعلان نہیں کیا تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک امیر قوم اور اس کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس بہت سے طریقے موجود ہیں اور وہ ان طریقوں پر جارحانہ انداز میں عمل کیا جا رہا ہے۔ صدر بش نے کہا ’میرے ہم وطنوں ہم اس بحران کو حل کر سکتے ہیں اور ہم اس کو حل کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ خوف کے شکار حصص بازاروں میں استحکام بحال کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ”ہم سب اس کا شکار ہیں اور ہم سب مل کر ہی اس سے نکل سکتے ہیں“۔ اے پی پی کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براﺅن نے کہا ہے کہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور تمام ممالک کو اپنے بینکاری نظام کو بچانے کیلئے برطانیہ کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے مالیاتی بحران کے اثرات کم کرنے کیلئے مزید سرمایہ بینکاری نظام میں شامل کیا ہے جس سے مالیاتی حکمت عملی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور بینکوں کو قرضوں اور دیگر مقاصد کیلئے رقوم کی فراہمی میں آسانی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کا یہ اقدام جدید بینکاری نظام اور وافر سرمائے کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی بحران ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے ا ور اس کا عالمی سطح پر حل تلاش کرنا ہوگا ہمیں امید ہے کہ تمام ممالک صورتحال کا احساس کرتے ہوئے ٹھوس اور واضح حکمت عملی اختیار کریں گے۔ دریں اثناءعالمی اقتصادی کساد بازاری کے اثرات نے سنگا پور کی مضبوط معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سنگا پور کی وزارت تجارت وصنعت نے رواں سال کیلئے ملکی اقتصادی ترقی کی شرح میں کمی کر دی ہے۔ سنگا پور کے ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت نے اقتصادی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے اور مالیاتی حکمت عملی کو بہتر بنانے کیلئے کئی اقدامات کیے ہیں لیکن عالمی سطح پر ایندھن اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اسے مختلف مسائل کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کیلئے سرمایہ کاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ صنعتی ودیگر شعبوں کی کارکردگی بہتر بنائی جارہی ہے۔







  
     © 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of   Publications

sponsors: air purifier