|
اردو ٹائمز(نیوز) صدر آصف علی زرداری اپنے پہلے سرکاری دورے کے سلسلے میں14 اکتوبر سے چین کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونگے‘ دورے کے دوران چشمہ نیوکلیئر توانائی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور تجارتی حجم کو 2011ءتک 15 بلین ڈالر تک پہنچانے‘ آزاد تجارتی معاہدے میں سرمایہ کاری پروٹوکول سمیت دفاع‘ تجارت‘ ماحولیات اور باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئے متعدد یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہونگے جبکہ وزیراعظم بھی 23 اکتوبر کو بیجنگ میں منعقد ہونیوالے دوروزہ ایشیا یورپ (آسم) اجلاس میں پہلی مرتبہ شرکت کے لئے چین جائیںگے۔جمعہ کے روز دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے پریس ریلیز کے مطابق کہا گیا ہے کہ چین کا چار روزہ دورہ صدر آصف علی زرداری کا کسی بھی ملک کا پہلا سرکاری دورہ ہے جس سے دونوں ممالک کے مابین پہلے سے موجود گہرے دوستانہ روابط مزید مستحکم ہونگے جبکہ اس دوران متعدد شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دینے‘ علاقائی اور عالمی امور‘ توانائی‘ اقتصادی و غذائی بحران‘ تجارتی حجم میں اضافے‘ دفاعی تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر نہ صرف بات چیت ہو گی بلکہ اس دوران متعدد معاہدوں‘ منصوبوں اور یادداشتوں پر دستخط کئے جائینگے۔ صدر آصف علی زرداری کو اس دورے کی دعوت ان کے چینی ہم منصب ہوجن تا¶ نے دی ہے۔ دورے کے دوران چیئرمین نیشنل پیپلزکانگریس وو بینگو چینی وزیراعظم وین جیا با¶‘ چائنیز پیپلز پولیٹکل کنسلٹیٹو کانفرنس کے چیئرمین جیاکنگلن اور کاروباری شخصیات اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرینگے جبکہ چارروزہ دورے کے بعد صدر 17 اکتوبر کو وطن واپس پہنچیںگے۔ دریں اثناءوزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی 23 اکتوبر سے چین کا دو روزہ دورے پر بیجنگ روانہ ہونگے جہاں وہ آسم اجلاس میں پہلی دفعہ شرکت کرینگے۔
|
|