|
اردو ٹائمز(نیوز) پولیس لائن اسلام آباد میں قائم انسداد دہشت گردی سکواڈ کے دفترپرجمعرات کو خود کش حملے میں کم از کم 8 پولیس اہلکارزخمی ہوگئے۔ ایک پولیس اہلکار کے مطابق انہوں نے ایک سفید کرولا کار کو عمارت کے ساتھ ٹکراتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور نے انسداد دہشت گردی سکوارڈ کے سربراہ ملک ممتاز کے دفتر کو نشانہ بنایا اور حملے کے نتیجے میں سہ منزلہ عمارت میں موجود رہائشی بیرکس بھی تباہ ہوگئے۔ اسلام آباد پولیس لائنز میں آپریٹر امانت علی نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ یہ دھماکہ بیرک نمبر چار میں ہوا ہے جو انسداد دہشت گردی کی خصوصی پولیس کے دستوں کی رہائش کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ امانت علی نے کہا کہ اس عمارت میں 300 کے قریب پولیس جوان رہتے ہیں لیکن دھماکے کے وقت ان میں سے بیشتر اپنی ڈیوٹیز پرگئے ہوئے تھے۔ دھماکے کے بعد پولیس لائنز کے اوپر دھوئیں کے بادل چھاگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ قریبی گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور پولیس لائن کے قریب دھماکے کے نتیجے میںجی نائن ،جی ٹین ،آئی نائین سمیت دیگر قریبی علاقے لرز گئے ہیں۔ دھماکے کے باعث ٹریفک جام ہوگیا۔ دھما کے کو میرٹ ہوٹل دھماکے سے تشبیہ دی جارہی ہے۔ ہسپتالوں میں ہائی الرٹ کردیاگیا۔ حملہ آور نے پولیس لائن کی بیرکوں کو نشانہ بنایا تاہم اسلام آباد میں ہائی سکیورٹی کی وجہ سے زیادہ تر پولیس اہلکار فیلڈ میں ڈیوٹیوں پر موجود تھے اور بیرکیں تقریباً خالی تھیں جس کے باعث کسی بڑے جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم حکومت اس طرح کے حملوں کی ذمہ داری مقامی طالبان پر ہی ڈالتی رہی ہے۔ واضح رہے کہ جس علاقے میں دھماکہ ہوا ہے وہاں پر پولیس اکیڈمی اور نیشنل ٹریننگ سنٹر بھی واقع ہے اور ےہ علاقہ ریڈ زون سے دس سے پندرہ کلومیٹر دور ہے۔ پولیس ہیڈکوارٹر پر یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب اسلام آباد میں پارلیمان کامشترکہ اجلاس جاری ہے جس کے لیے شہر بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ بم دھماکے کے بعد ہسپتالوں میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ جوائنٹ ایگزیکٹو ڈاکٹر الطاف نے صحافیوں کو بتایا کہ پمز میں 4 زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے 3 کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ایک پولیس اہلکار کی حالت خطرے میں ہے۔ اس کا آپریشن کیا جا رہا ہے۔ زخمیوں میں وکیل خان‘ طاہر‘ فیض اللہ اے ایس آئی‘ نوید داخل ہیں۔ 3 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا۔ ایک پولیس اہلکار کو پولی کلینک لایا گیا ہے۔ محمد آصف کو پولی کلینک لایا گیا تھا۔ اسے بھی معمولی زخم آئے تھے۔ آئی این پی کے مطابق زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ خودکش بم دھماکے سے اردگرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے سے اے ٹی ایف کی عمارت کا ایک حصہ گر گیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز 2کلو میٹر تک سنی گئی اور اس سے اردگرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ زخمیوں کو پمز اور اسلام آباد کے دیگر ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ایدھی فاﺅنڈیشن کے سربراہ مولانا عبدالستار ایدھی اسلام آباد میں جائے حادثہ پر پہنچ گئے مگر گرمی اور حبس کی وجہ سے بیہوش ہوگئے جنہیں بعد میں ایمبولینس کے ذریعے پمز ہسپتال لایا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد وہ صحت یاب ہوگئے۔
|
|