|
اردو ٹائمز(نیوز)وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ سربجیت سنگھ کو رہا کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ہم سزائے موت کے قانون کے خاتمے کیلئے جلد پارلیمنٹ میں بل پیش کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ جیل مینوئل کو تبدیل کرنے‘ شام کی عدالتیں شروع کرنے اور قیدیوں کی شکایات کے ازالے کیلئے محتسب ادارہ کے قیام سمیت دیگر معاملات وزارت قانون میں زیرغور ہیں۔ ان سفارشات پر عملدرآمد کیلئے وفاق تمام صوبوں سے درخواست کریگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سینٹرل جیل کوٹ لکھپت اور کیمپ جیل لاہور کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بیرک میں آٹھ آٹھ قیدی بند ہیں۔ ہم مزید بیرکیں تعمیر کریں گے۔ اگر 5 سال تک سزا کو قابل ضمانت قرار دیدیا جائے تو جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 40 فیصد کمی ہوجائے گی۔ ہم اس سلسلے میں وزارت میں صلاح مشورہ کررہے ہیں۔ میری جیل میں عورتوں سے ملاقات ہوئی۔ بہت سی عورتیں وکیل نہیں کرسکتیں۔ اب ان کو وکیل حکومت فراہم کریگی اور وکیل کی فیس وزارت قانون ادا کریگی۔ حکومت نے فنڈز بھی دے دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں سے ملنے کے بعد اندازہ ہوا کہ مقدمات کا فیصلہ جلد نہیں ہوتا۔ میں وکیلوں سے کہوں گا کہ وہ تاریخ پیشی پر جائیں اور جج صاحبان مقدمات چلائیں اور فیصلے کریں۔ ہم شام کی عدالتیں بھی شروع کررہے ہیں۔ کئی مقدمات دو ماہ کے اندر ختم ہوسکتے ہیں۔ میں اعلیٰ عدالتوں سے بھی درخواست کروں گا کہ مقدمات کے فیصلے جلد کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سربجیت سنگھ سے ملاقات ہوئی ہے۔ اس کی اپیل سپریم کورٹ تک سے خارج ہوچکی ہے۔ اب اپیل صدر کے پاس ہے اور اس کی سزا یا معافی کا فیصلہ صدر کے پاس ہے۔ میں نے جیل حکام سے سربجیت سنگھ کا ریکارڈ اور فائل منگوائی ہے تاکہ اس پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے سربجیت سنگھ سے ملاقات کی ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔ اس نے کہا کہ وہ اتنے سال سے قید ہے‘ وہ خاموش تھا‘ زیادہ بات چیت نہیں ہوئی۔ ہمیں بھارت میں قید پاکستانیوں کی فہرست مل چکی ہے۔ میں بھارتی حکام سے درخواست کروں گا کہ وہ بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کو رہا کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں خود پہل کرتے ہوئے بھارتی حکام سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جیلوں میں بند قیدیوں کی شکایات کے ازالہ کیلئے جیلوں کیلئے محتسب کا ادارہ قائم کررہے ہیں جس کیلئے سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا ریٹائرڈ جج یا پھر حاضر سروس جج مقرر کیا جائیگا۔ وفاقی وزیر قانون نے اس موقع پر موجود محکمہ قانون کے افسران‘ وکلاءاور دیگر افراد سے جیل میں قیدیوں کی تعداد کم کرنے اور سہولتوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال سے کم سزا کے جرائم کو قابل ضمانت قرار دیدینا چاہئے۔ عورت اگر کسی کی ضمانت دیتی ہے تو اس کے پیش کردہ کاغذات درست ہونے پر ضمانت منظور کی جائے۔ پاکستان کے کسی بھی علاقے میں موجود پراپرٹی کاغذات بطور ضمانت منظور کئے جانے چاہئیں۔ قیدیوں کو اپنے گھر والوں سے بات کرنے کیلئے فون کی سہولت دی جائے۔ پی سی او کا تجربہ نہیں ہوسکتا لیکن قیدیوں کی نگرانی میں بات کرائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کو اپنی فیملی سے علیحدہ ملاقات کرنے کی سہولت بھی مہیا کی جانی چاہئے۔ قیدیوں کیلئے ماہر نفسیات کا انتظام بھی ہونا چاہئے جو کہ ان میں جرائم سے نفرت پیدا کریں۔ وفاقی وزیر نے سپرنٹنڈنٹ جیل کے کمرے کے باہر ان بچوں سے بھی خصوصی ملاقات کی جن کی مائیں جیل میں قید ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر نے جیل میں بند بچوں میں تحائف تقسیم کئے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد جیل کے باہر موجود تھی جو کہ جئے بھٹو‘ ایک زرداری سب پر بھاری‘ بی بی تیرے خون سے انقلاب آئیگا‘ زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘ چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔۔
|
|