|
اردو ٹائمز(نیوز) امریکی فوج آج (پیر) ایک ایسے نظریے کا انکشاف کرے گی جس کے تحت روایتی جنگوں کی بجائے قومی تعمیر کے مشنوں کو زیادہ اہمیت حاصل ہو جائے گی اور جس میں ان خطرناک ممالک کی وضاحت کی جائے گی جو جرائم اور دہشت گردی کے علاوہ مذہبی اور گروہی فسادات کو جنم دیتے ہیں اور جو امریکہ کی سلامتی کیلئے زبردست خطرہ ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق نئے نظریے کے تحت امریکہ فوج کی طرف سے حریف ممالک کے خلاف افغانستان اور عراق کی طرح کی بڑی زمینی لڑائی میں ملوث ہونے کی بجائے لاقانونیت کے شکار علاقوں میں کارروائی کیلئے وقتاً فوقتاً بلائی جائے گی تاکہ متعلقہ علاقوں کے لوگوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور ان ممالک کی تعمیر نو کی جائے۔ آرمی کے نئے آپریشنز فیلڈ مینوئل کے مطابق اس قسم کے استحکام آپریشنز روایتی جنگ آپریشنوں کی نسبت فوج کی کامیابی کیلئے زیادہ پائیدار ثابت ہونگے۔ امریکی فوج کے کمانڈ آرمز سنٹر کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ولیم کالڈویل نے بتایا کہ یہ ایسی دستاویز ہے جو تصادم کی بجائے امن پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج اس وقت تک امن کو محفوظ نہیں بنا سکتی جب تک استحکام پر مبنی آپریشنز ملک اور بیرون ملک سویلین حکومت اور نجی اداروں کے تعاون سے نہیں کئے جائے۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکی فوج کے حوالے سے بنیادی تبدیلی قرار دیا۔ تاہم فوج کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی حکمت عملی اپنانے سے امریکی فوج کے بڑی لڑائیاں لڑنے کے ہنر کمزور پڑ جائیں گے جن میں ٹینک اور توپخانے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ادھر فوج کے حمائتیوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ غیر مستحکم علاقوں میں امریکی فوج کو پیام امن اور تعمیر نو کہتے ہی طلب کیا جاتا ہے البتہ یہ کام عبوری بنیاد پر ہوتا ہے اور زیادہ توجہ لڑائی پر ہی مبذول رکھی جاتی ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکی انقلاب کے بعد امریکی فوج کے سینکڑوں آپریشنوں میں سے صرف گیارہ روایتی جنگیں لڑی گئی ہیں۔ دستاویز تیار کرنے والی ایک نمایاں شخصیت لیفٹننٹ کرنل سٹیو لیونارڈ نے کہا ہے کہ اگر آج غیر مستحکم ممالک کو نظر انداز کیا گیا تو اس سے امریکہ کیلئے خطرات بڑھ جائیں گے۔ اس قسم کے ممالک میں ایسے وسیع علاقے بن ہی جاتے ہیں جہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی اور جہاں انتہائی قسم کے جرائم کے نیٹ ورکس بین الاقوامی دہشت گردوں نسلی فسادات اور نسلی کشی کیلئے استعمال ہو سکتے ہیں تاہم اس منطق کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی باتوں کو بھول جائیں کیونکہ امریکہ کی بعض حریف طاقتیں اب بھی دوسری سپرپاور کے خلا پر کرنے کیلئے کوشاں ہی نہیں بلکہ منزل کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ بعض ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ قومی تعمیر پر زور ایک خطرناک قسم ہوگی ان کے خیال میں فوج کو بڑے پیمانے پر زمینی جنگ کی تیاری کیلئے اس کی جنگی صلاحیتوں کو مستحکم بنایا جانا چاہئے۔ انہوں نے اس مفروضے کو غلط قرار دیا کہ مستقبل میں بڑی جنگوں کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے اس زبردست نوعیت کے تصادم کے خطرے کی طرف اشارہ کیا جس کے تحت شمالی کوریا ایران اور پاکستان یا کہیں اور بڑے پیمانے پر امریکی فوج متعین کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اور جارجیا کی حالیہ جنگ پر نظر ڈالی جائے تو اس حقیقت کا پتہ چلے گا کہ مستقبل کی جنگ بہت قریب ہے نئی حکمت عملی کا مقصد حکومت سے محروم اقوام کو مستحکم بنانا، ان کی تعمیر نو میں مدد دینا اور امداد فراہم کرنا، پبلک سروس کی فراہمی اداروں کی تعمیر اور سیکورٹی فورسز کا قیام شامل ہے جبکہ سنگین نوعیت کے معاملات میں امریکی فوج کی قیادت میں عبوری حکومتوں کا قیام بھی نئے نظریے میں شامل ہے۔
|
|